ہیرے صرف زمین کے اندر ہی نہیں بلکہ سمندر کے اندر بھی پائے جاتے ہیں لیکن یہاں اُن ہیروں کی بات نہیں ہورہی بلکہ ان نایاب نسل کی مچھلیوں کی بات کی جارہی ہے جو کسی ہیرے سے کم نہیں ہوتیں اور قیمت جان کر کسی کا بھی منہ کھلا کا کھلا ہی رہ جائے۔
حال ہی میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ شکار گوادر کے ایک مچھیرے کے ہاتھ نایاب مچھلی لگی ہے جو راتوں رات لکھ پتی بن گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کوہ سر بازار پشکان گوادر کے رہائشی ناخدا وحید بلوچ نے جیونی گوادر کے سمندر میں 84 کلو وزنی نایاب کروکر ( کر) مچھلی شکار کیا،مچھلی فی کلو ایک لاکھ اسّی ہزار روپے میں فرخت ہوئی۔ کروکر(کِر) مچھلی کی بولی چھیاسی لاکھ چالیس ہزار (8640000) روپے تک لگ گئی۔
کروکر(کِر) مچھلی کی ڈیمانڈ چائنا و یورپ اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اس قیمت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انوائرنمنٹ و میرین بائیولوجسٹ عبدالرحیم بلوچ کے مطابق بعض مچھلیاں اپنے گوشت کی وجہ سے بہت زیادہ قیمتی ہوتی ہیں لیکن کروکر کے حوالے سے معاملہ مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ کروکر کی قیمت دراصل اس کی ایئر بلیڈر کی وجہ سے ہے جس میں ہوا بھرنے کی وجہ سے وہ تیرتی ہے انہوں نے کہا کہ اس مچھلی کا ایئر بلیڈر طبی استعمال میں آتا ہے اور چین، جاپان اور یورپ میں اس کی مانگ ہے۔
اٴْنھوں نے بتایا کہ کروکر مچھلی کا ایئر بلیڈر انسانی جسم کے اندرونی اعضاء میں دورانِ سرجری لگائے جانے والے ٹانکوں بالخصوص دل کے آپریشن میں سٹچنگ وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے چند روز قبل عبدالحق نامی مچھیرے نے سات لاکھ اسی ہزار روپے کی مالیت کا کروکر مچھلی پکڑا تھا۔