شوہر کے انتقال کے بعد رہنے کو گھر نہیں تھا مجبوراً بس میں رہنا پڑا پھر ۔۔ جانیں باہمت خاتون روزینہ ناز کی کہانی

image

عام طور مرد ہی گھر کی معاشی طور پر دیکھ بھال کرتا ہے اور عورت گھر کو سنوارتی ہے، مگر جب گھر میں کمانے والا کوئی مرد نہ ہو تو ایسے میں عورت ہی کو نکل کر سامنے آنا پڑتا ہے۔ اُس معاشرے میں جہاں کئی زیادتی کے واقعات سامنے آچکے ہیں، اسی معاشرے میں اپنے بچوں کی خاطر، ان کے بہتر مستقبل کی خاطر۔

کراچی کی روزینہ ناز بھی ایک ایسی ہی خاتون ہیں جو کہ اپنے گھر اور بچوں کی خاطر وہ کام کرہی ہیں جو کہ عموماً مردوں کے کام سمجھے جاتے ہیں۔

روزینہ ناز کراچی میں اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پزیر ہیں۔ روزینہ کے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے جبکہ شوہر کے بعد روزینہ نے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے خود ہمت کر کے محنت مزدوری کرنے کو ترجیح دی۔

روزینہ ٹرک آرٹ کے پیشے سے منسلک ہیں۔ جبکہ مقامی ٹرکوں اور بسوں پر پینٹ کر کے اپنے بچوں کا پیٹ بھر رہی ہیں اور تعلیم کے اخراجات پورا کررہی ہیں۔

روزینہ کا کہنا ہے کہ شوہر کے بعد ایک ہفتہ ایسا بھی آیا ہم پر جب ہمارے پاس رہنے کو جگہ تک نہیں تھی، مجھے ایک پرانی کوچ کھڑی دکھی، اور پھر اس کوچ میں ہی بچوں سمیت رہنا شروع کردیا۔ کیونکہ ہمارے پاس رہنے کو جگہ نہیں تھی۔

روزینہ کو ٹرک آرٹ کے اس پیشے میں تقریبا 19 سال ہوچکے ہیں، اس دوران کئی ایسے واقعات پیش آئے جس میں انہیں لوگوں کی جانب سے اس پیشے کو چھوڑنے پر زور دیا گیا، روزینہ کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ لوگوں نے اس پیشے کو چھوڑنے کا کہا۔

روزینہ ٹرکوں اور بسوں پر برش کا کام، پینٹ، نقش و نگاری میں مہارت رکھتی ہیں۔

روزینہ کہتی ہیں کہ میں محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کو حلال رزق کھلا رہی ہوں۔ لوگ تو باتیں کرتے رہیں گے، اگر لوگوں کی باتوں کو دل میں رکھنا شروع کردوں تو میں کام نہیں کر سکوں گی۔ جبکہ کئی ایسے بھی لوگ تھے جو مجھے سپورٹ کرتے ہیں۔

روزینہ کا کہنا ہے کہ لوگ میری عزت کرتے ہیں، مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ روزینہ کو اس پیشے میں بہترین کارکردگی کی بدولت، 'روزی استاد' کے نام سے جانا جاتا ہے۔

روزینہ اس پیشے سے مطمئن ہیں اور ان کا کہنا ہے اگر مزید کام ملے گا تو میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہوں۔ روزینہ ایک باہمت خاتون ہیں جنھوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود ہمت نہ ہاری۔

گھر سے محروم ہونے کا سوچ کر بھی ہمارے پیروں تلے زمین نکل جاتی ہے، ہم ہمت ہار جاتے ہیں۔ لیکن روزینہ نے ہر قدم پر ثابت کیا ہے کہ رکاوٹیں تو بہت ہیں ان سے نمٹنا آنا چاہیئے۔ روزینہ صرف عورتوں کے لیے ہی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کے لیے مشعل راہ ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US