میرا بیٹا ہوا ہے اسی خوشی میں آج تمام لوگوں کو کھانا میں کھلاؤں گا کیونکہ ۔۔ اس شخص نے بوڑھے میاں بیوی کی مدد کیسے کی؟ جانیں آنکھوں کو نم کر دینے والی کہانی

image

ایک دن میں اپنے والدین کے ساتھ کراچی کے ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کھانے گیا۔وہاں دو ٹیبل چھوڑ کے ایک اُدھیڑ عمر بوڑھے میاں اور اُن کی بوڑھی اہلیہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔اِسی دوران ایک خوبرو نوجوان بھائی صاحب ہوٹل میں داخل ہوئے اور واش بیسن پر ہاتھ دھو کر کچھ فاصلے پر اُن کے برابر والی ٹیبل پر بیٹھ گئے۔

چونکہ ہم نے پہلے ہی کھانے کا آرڈر دے دیا تھا تو اِس لیے ہم کهانے کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک اُس صاحب کے موبائل فون کی بیل بجی جس کے بعد وہ قدرے اونچی آواز میں موبائل پر کسی سے گفتگو میں مگن ہوگئے، اُن کے بات کرنے کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اُن کو اللہ نے کوئی بہت بڑی خوشی سے نوازا تھا۔

اور پھر موبائل پر بات ختم کرنے کے بعد وہ وہاں پر موجود سب لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے بلند آواز میں بولے، "خواتین و حضرات! آج میں بہت خوش ہوں کہ اللہ نے مجھے بیٹا عطا کیا ہے اور اِس خوشی میں، میں آپ سب کو مٹن کڑھائی کھلاؤں گا۔

میں اپنی جگہ سے اٹها اور آگے جا کر انہیں مبارک باد دی اور کہا کہ بھائی! ہم نے تو اپنے کھانے کا آرڈر پہلے ہی دے دیا ہے، یہ سنتے ہی اُنہوں نے کہا "اچها، چلو کوئی بات نہیں اِس خوشی میں آپکے کھانے کا بل میں ادا کروں گا۔ اور پھر انہوں نے وہاں پر موجود تمام لوگوں بشمول اُن بوڑھے میاں جی اور اُن کی عمر رسیدہ اہلیہ کیلئے مٹن کڑھائی کا آرڈر کیا اور سب کا بل ادا کر کے اپنا کھانا کھا کے خوشی خوشی چلے گئے۔

چند دنوں کے بعد میں اپنے دوستوں کے ہمراه ایک سینما گیا تو کیا دیکھا کہ وہی صاحب وہاں پر ایک پانچ سال کے بچے کے ہمراہ ٹکٹ کے لیے لائن میں کھڑے تھے، میں اپنے دوستوں سے نظر بچا کر اُن کے پاس پہنچا، جونہی انہوں نے مجھے دیکھا، دیکھتے ہی مجھے پہچان گئے اور مسکرانے لگے۔

بہرحال سلام دعا کے بعد میں نے طنزیہ کہا کہ "ماشا الله! آپکا بیٹا تو چند ہی دنوں میں اتنا بڑا ہو گیا ہے۔میری بات سن کر انہوں نے کہا، "بھائی! چھوڑو اِس بات کو، یہ بڑی عجیب کہانی ہے، پھر کسی دن ملو گے تو بتاؤں گا۔ جب اںہوں نے یہ کہا تو میرا تجسس اور بھی بڑھ گیا اور میں نے اصرار کیا کہ "وه مجهے یہ عجیب کہانی ابھی بتائیں۔

آخر میرے بہت بار کہنے پر جو بات انہوں نے بتائی اس کے بعد میں اپنے آپ کو بہت چھوٹا سمجھنے لگا اور ان کا مقام میری نظروں میں بلند ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ میں جب اس دن ریسٹورنٹ میں میں داخل ہوا تو ہاتھ دھونے کے لیے واش بیشن کی جانب گیا اور وہاں ہاتھ دھوتے وقت بوڑھے میاں اور ان کی عمر رسیدہ اہلیہ کی باتیں سن لیں تھیں ، بوڑھی اماں کو میں نے یہ کہتے سنا کہ آج میرا مٹن کڑھائی کھانے کو دل کر رہا ہے تو ان بوڑھی خاتون کے میاں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ میرے پاس پورے مہینے کے لیے صرف دو ہزار روپے ہیں اگر کڑھائی کھائیں گے تو پورے مہینے کا کیسے گزراہو گا؟ ایک کام کرتے ہیں آج دال روٹی کھا لیتے ہیں، کڑھائی پھر کسی دن کھا لیں گے۔

ان صاحب نے کہا کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے موبائل کی خود ہی بیل بجا کر وہ بیٹے کی پیدائش کا ڈرامہ کیا تھا تاکہ میں اپنی خوشی کے بہانے ان کی خدمت کر سکوں۔

میں نے اس شخص سے کہا کہ بھائی آپ ان کو کچھ رقم دے دیتے آپ نے وہاں بیٹھے تمام لوگوں کا بل ادا کیا، تو اس شخص نے کہا کہ ایسا کر کے میں ان بوڑھے میاں بیوی کی عزت مجروح نہیں کرنا چاہتا تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US