افریقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ لیاری میں کیسے آباد ہوگئے؟ جانیں شیدی کمیونٹی کے بارے میں دلچسپ معلومات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

image

کراچی ویسے تو ایک گلدستے کی طرح ہے جیسے ایک گلدستے میں مختلف قسم کے پھول ہوتے ہیں، بالکل ایسے ہی کراچی کی آبادی ہے جس میں مخلتف زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ موجود ہیں۔ ایک ایسی ہی کمیونٹی جو کہ افریقہ سے تعلق رکھتی ہے وہ کراچی کے علاقے لیاری میں آباد ہے۔

شیدی کمیونٹی لیاری میں کئی برسوں سے آباد ہے، عام طور پر شیدی کمیونٹی ایشیاء میں آباد نہیں تھی مگر دکن سلطنت اور مغل دور میں شیدی کمیونٹی کو بطور غلام ایشیاء میں لایا گیا تھا۔ جبکہ کئی شیدی غلاموں کو فوج اور ایڈمینسٹریشن میں اعلیٰ عہدے بھی دیے گئے تھے۔

وقت اور زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ شیدی کمیونٹی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان شیدی اتحاد کے چئیرمین یعقوب قمبرانی کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زائد شیدی جنوبی پاکستان میں آباد ہیں۔ جبکہ 50 فیصد شیدی اندرون سندھ میں آباد ہیں، 20 فیصد کراچی میں اور 30 فیصد بلوچستان میں رہائش اختیار کرے ہوئے ہیں۔

کراچی میں شیدی قوم کے افراد لیاری کے علاقے میں رہائش پزیر ہیں۔ شیدی قوم کی پاکستان میں ابتدائی طور پر 4 قسمیں ہیں جن میں لاسی مکان، حیدرآباد مکان، بیلا راؤ مکان اور کھارادر مکان شامل ہیں۔

عام طور پر شیدی کمیونٹی کے افراد گھریلو ملازمت، کھیتی باڑی، باڈی گارڈز کے پیشے سے وابستہ تھے، مگر اس وقت شیدی کمیونٹی کے افراد ہر قسم کے پیشے سے وابستہ ہیں جیسے کہ ٹرانسپورٹ، سرکاری اور پرائیوٹ نوکری سمیت ہر میدان میں قدم جما رہے ہیں۔

شیدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی تنزیلہ قمبرانی سندھ اسمبلی میں بطور ممبر صوبائی اسمبلی اپنی کمیونٹی کی ترجمانی کر رہی ہیں۔

جبکہ شیدی کمیونٹی کا سالانہ میلہ جو کہ 'شیدی میلے' کے نام سے جانا جاتا ہے سندھ بھر میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس شیدی میلے میں سندھ بھر سے آئے زائرین شیدی صوفی کے مزار پر حاضری دیتے ہیں اور ان صوفی کے عرس کے موقع پر وہاں موجود مگر مچھوں کو گوشت ڈالتے ہیں۔

شیدی کمیونٹی پاکستان کی معاشی ترقی میں ایسے ہی کردار ادا کر رہی ہے جیسے دیگر کمیونیٹیز اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US