میرے شوہر نے خود کو موت کے منہ میں ڈال دیا لیکن لوگوں کو بچایا ۔۔ باہر ممالک میں خوفناک حملوں کا نشانہ بننے والے پاکستانی گھرانوں کی اپنوں کو ہمیشہ کے لیے کھونے کی دردناک کہانیاں

image

حالیہ چند سالوں میں بیرونی ممالک میں ہونے والے دہشت گری کے واقعات اور ان میں خاص طور پر مسلمان گھرانوں کو نشانہ بنانے کا ہدف انتہائی افسوسناک اور بزدلانہ کام ہے۔

اس سے قبل بھی نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں پیش آنے والے ہولناک واقعے کے مناظر ہمارے ذہنوں میں موجود تھے اور اس کے غم تازہ ہی تھے کہ اب کینیڈا میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آگیا جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی کو ایک دہشت گرد نے ٹرک سے کچل ڈالا کیونکہ وہ بھی مذہبی اعتبار سے تعصب کا شکار تھا۔

آج ہم ان پاکستانی مسلمان فیملیز کے بارے میں جانیں گے جنہیں بیرونی ممالک میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جنہیں کوئی نہیں بُھلا سکتا۔

1- نعیم راشد اور ان کا بیٹا طلحہ نعیم

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کو آج تک کوئی نہ بھلا سکا جس میں کئی مسلمان شہید ہوئے۔ شہید ہونے والے لوگوں میں ایک بہادر پاکستانی نعیم راشد تھے جنہوں شہید ہونے سے قبل مسجد پر حملہ آور کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا تھا اور ساتھ ہی ان کا 22 سالہ بیٹا طلحہ نعیم بھی شہید ہوا۔

زندگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ کرنے والے کو پکڑنے کی کوشش کرنے والے پروفیسر نعیم راشد کا تعلق ایبٹ آباد کے علاقے جناح آباد سے تھا۔

نعیم راشد کی اہلیہ عنبرین نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر اور بیٹا ہیرو ہیں، وہ ہمیشہ لوگوں کی مدد کرتے تھے اور یہاں تک کہ آخری وقت میں بھی انہوں نے لوگوں کی بچانے کی کوشش کی۔

2-کینیڈا حملہ: سید افضال کا خاندان

رواں ماہ 7 جون کو کینیڈا میں پیش ہونے والے ہولناک واقعہ میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد جہاں فانی سے رخصت ہوگئے جبکہ اپنے ایک لخت جگر کو اس ظالم معاشرے میں تنہا چھوڑ گئے۔ اس حملے میں شہید ہونے والے سید افضال کے خاندان چند خوبصورت باتیں آپ کو بتائیں گے۔

سید افضال اپنی فیملی جس میں ماں، بیوی، بیٹی اور بیٹے کے ساتھ کینیڈا میں تقریبا 14 سال سے آباد تھے۔ جبکہ سید افضال کا گھرانہ ایک تعلیم یافتہ گھرانہ تھا۔

سید افضال خود ایک فزیو تھیریپسٹ تھے، جبکہ بیوی مدیحہ افضال سول اینجنیئرنگ میں پی ایچ ڈی کر رہی تھیں۔ بڑی بیٹی نائنتھ گریڈ میں تھی اور دادی گھر کا ستون تھیں جنہوں نے پورے گھر کو جوڑ کر رکھا ہوا تھا۔

خاندانی دوست زاہد خان کا کہنا ہے کہ حملہ میں شہید ہونے والی تین پیڑھیاں تھیں جن میں دادی، بیٹا، بہو اور پوتی شامل تھیں۔ زاہد کا مزید کہنا ہے کہ سید افضال کا گھرانہ سماجی کاموں میں پیش پیش رہتا تھا، دینی کاموں کے حوالے سے بھی سید افضال کے گھرانے کی خدمات قابل قدر ہیں، پورا گھرانہ بہترین تربیت کا مالک تھا۔

3- کراسٹ چرچ واقعے میں شہید ہونے والے سہیل شاہد

سہیل شاہد اپنی فیملی اور اپنی والدہ کی آنکھوں کا تارہ تھے۔ ان کاشمار بھی کرائسٹ چرچ مسجد میں دہشت گردی کی زد میں آنے والےشہیدوں میں ہوتا ہے۔ سہیل کی والدہ نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے بتایا تھا کہ ایک دن بھی ایسا نہیں تھاکہ میری سہیل سے بات نہ ہوتی ہو۔ وہ اپنے بیٹے کو کھو دینے کے غم سے نڈھال رہتی ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق چند برس قبل ان کی شادی ہوئی تھی اور انھوں نے سوگواران میں بیوی اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں جن میں سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر دو سال ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US