بچپن سے یہ جملہ سنتے آرہے ہیں کہ تم تو مرد ہو کیسے رو سکتے ہو۔ اس جملے نے مجھ سے میرے جذبات چھین لیے ہیں۔ مجھے اک دڑبے میں بند کردیا ہے جہاں میں سب کچھ کر کے بھی کچھ نہیں کررہا۔ میں بچپن سے جوانی اور بڑھاپے تک اس سماج، خاندان کے دباؤ سے ہو کر گزرتا ہوں، جہاں مجھے یہی کہا جاتا ہے کہ تم ایک مرد ہو۔
بچپن میں جب کبھی روتا تھا تو یہ کہہ کر چپ کراتے تھے کہ مت رو، نہیں تو پولیس والے لے جائیں گے اپنے ساتھ۔ اسی بچپن نے مجھے یہ بھی سکھایا کہ اک مرد کے کاندھے پر ہی پورے گھر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ گویا ایک گاڑی کا ٹائر میں ہی ہوں جس میں پورا خاندان سوار ہے، موڑ مجھے رہے ہیں، حد سے زیادہ وزن مجھ پر رکھ رہے ہیں، حد سے زیادہ ہوا مجھ میں بھر رہے ہیں۔
لڑکپن میں پڑھائی کا پریشر، بچپن ہی سے اسی امید کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے کہ تمہیں اپنے چاچا، تایا کے بیٹے کی طرح بننا ہے، ڈاکٹر، انجینئیر۔ مگر بالکل اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ آیا میں کر بھی سکتا ہوں یا نہیں۔
جس طرح اینڈرائیڈ اور آئی فون کے چارجر اک دوسرے سے مختلف ہیں، سافٹ وئیر مخلتف ہیں۔ بالکل اسی طرح ہر بچہ مختلف ہے۔ مگر دوسروں پر برتری کی خواہش، اور اپنی خواہشات مجھ سے میرا بچپن چھین لیتی ہیں۔
نو عمری میں اپنی پڑھائی کی ذمہ داری کا احساس اور پریشر کسی بھی نوجوان کو ایسا بنا دیتا ہے کہ پھر نہ سر پر بال رہتے ہیں اور نہ ہی دل میں خواہشات۔ اور اگر نوکری لگ بھی جاتی ہے تو تعلیمی ادارہ خفا ہوجاتا ہے۔ اساتذہ پھر اس طالب علم کو اک آنکھ نہیں بھاتے، وہی آنکھ کا تارا اسی آنکھ میں کھٹکنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس مجبوری کو سمجھے بغیر کہ یہ طالب علم پڑھائی کے ساتھ ساتھ نوکری بھی کر رہا ہے تو اسے سپورٹ کیا جائے۔
یہ سماج بھی اسی نو عمر لڑکے کو جو کہ اب اک نوجوان بن چکا ہوتا ہے۔ اس بات سے ہی اندازاہ لگا لیں کہ ایک مرد جب بھی بس میں چڑھتا ہے تو بس والا بس روکنا مناسب نہیں سمجھتا اترتے وقت بھی چلتی بس سے چھلانگ لگانی پڑتی ہے، اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہوئے۔ یہ وہی نوجوان ہے جسے آفس میں آنے اور جانے کے لیے کوئی سفری سہولیات نہیں ملتی، آفس آنے کا وقت تو مقرر ہے مگر جانے کے وقت کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اس پر سونے پر سہاگہ آفس میں کام کا پریشر، جو کہ اسے اذیت میں مبتلا کردیتا ہے۔ وہ جی تو رہا ہوتا ہے مگر اندر سے مر چکا ہوتا ہے۔ اسے تنخواہ کی صورت میں آکسیجن مل رہی ہوتی ہے۔
نوجوانی میں وہ مرد جی تو رہا ہوتا ہے مگر اپنے گھر والوں کی ضرورتوں، خواہشات کو پورا کرنے کے لیے،بہنوں اور چھوٹے بھائی کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے اگر چہ اس سب میں خود کا مستقبل تاریک ہی کیوں نہ ہو جائے۔ ماں باپ کی فرماں برداری، خاندان کی لاج کی خاطر اپنے آپ کو قربان کردیتا ہے۔
پھر شادی کے بعد بیوی کی دیکھ بھال، سسرال والوں کے نخرے، اور ہمارے سماج میں تو شادی کے شروعات میں بیوی اور ماں کے جھگڑے ہونا عام ہے، اس سب میں بھی سارا نزلہ مرد پر ہی گرتا ہے۔ ماں باپ جوروں کا غلام کہتے ہیں تو بیوی کے گھر والے الگ گھر کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ان سب مسائل کے بعد اک اور امتحان سر پر ہوتا ہے جو کہ باپ بننے کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے۔ بچوں کے کھانے کے اخراجات، ڈائپرز کے خرچے، اور مزید دیگر گھریلو اخراجات کی فکر۔ ان سب سے نکل کر جب ایک مرد اپنا دکھ کم کرنے کے لیے دو منٹ کو رو دے تو اسے کہا جاتا ہے کہ تم کیوں رو رہے ہو، مرد بنو مرد۔ مرد کہاں روتے ہیں۔
کیا مردوں کے جذبات نہیں ہیں، کیا مرد احساسات نہیں رکھتے؟ اداکارہ حرا مانی نے کیا خوب کہا ہے کہ مرد بڑی پیاری چیز ہے، آپ اس کی اک سنو وہ آپ کی چھ سنے گا۔ اور وہ اک بھی آپ کو اس لیے نہیں سنائے گا کہ بدلے میں وہ آپ کی سنے۔ بلکہ اسکو بھی تو سمجھو، اسکے احساسات کو بھی تو سمجھو۔