دلہا دلہن دونوں ٹوپی پہنتے ہیں۔۔ جانیں ہنزہ میں شادی کے موقع پر کون سی دلچسپ رسمیں ہوتی ہیں؟

image

“ہمارے ہاں لڑکی دیکھنے جانے کا رواج نہیں ہے بلکہ باقاعدہ رشتہ کیا جاتا ہے۔ نہ جہیز کا دباؤ ہوتا ہے نہ ہی دولت کا دکھاوا کرنا ہوتا ہے“

نازیہ حسن نامی اس لڑکی کا تعلق پاکستان کی حسین ریاست ہنزا سے ہے۔ پاکستان کے ہر خطے کی طرح یہ شہر بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے اور رسم و رواج کے معاملے میں الگ ثقافت رکھتا ہے۔ نازیہ نے ہنزہ میں اپنی ہونے والی شادی کا احوال کہانی کی صورت لکھا تو ہم نے سوچا ہم بھی اپنے قارئین کو ہنزہ کی شادی میں لے چلیں۔

رشتہ کرانے والی آنٹی نہیں ہوتیں

نازیہ کہتی ہیں کہ ہنزہ کے لوگ بہت سادہ مزاج اور ہمدرد طبعیت رکھنے والے ہیں۔ “ہماے ہاں رشتہ کرانے والی آنٹیاں بھی نہیں ہوتیں۔ شادی کا اہتمام گھر میں سادگی سے کیا جاتا ہے“

دلہا دلہن زمین پر بیٹھتے ہیں

سادگی کی انتہا یہ ہے کہ دلہا دلہن زمین پر اپنے دوستوں اور خاندان والوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں جہاں گیت گائے جاتے ہیں اور ہنسی مذاق کیا جاتا ہے۔ شادی حال تو دور کی بات، شادی شدہ جوڑے کے لئے اسٹیج بنانے کا رواج بھی نہیں ہے۔ دلہا دلہن سب کے ساتھ مل کر شادی انجوائے کرتے ہیں۔

بات رسید

بات رسید ایک رسم ہے جو شادی کی شروعات میں کی جاتی ہے۔ اس رسم کا مقصد ہی شادی کی تیاریاں شروع ہونے کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ اس میں روایتی کھانا تیار کیا جاتا ہے جو خاندان کے مرد پکاتے ہیں۔

دلہا کی تلوار

شادی کے دن دلہا کے والد یا گھر کا کوئی بزرگ اسے تلوار تھماتا ہے۔ یہ تلوار اس لئے دی جاتی ہے کیونکہ شادی والے دن دلہا کو بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔

دلہا دلہن کی ٹوپی

سفید رنگ کی نرم اون سے بنی ٹوپی دلہا کو پہنائی جاتی ہے جس پر مور کا پر بھی لگا ہوتا ہے۔ اس ٹوپی کو “شاتی“ کہتے ہیں۔ ہنزہ اور گلگت بلتستان میں اس ٹوپی کو شادی کے دن دلہا کا تاج ہی سمجھا جاتا ہے۔

جبکہ دلہن کو ایسی ٹوپی پہنائی جاتی ہے جس کے تمام اطراف چاندی کے سکے اور زیورات سجے ہوتے ہیں۔ شادی میں دلہا دلہن کے ٹوپی پہننے کا رواج صدیوں سے چلا آرہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US