سمندر میں پانی ایسے کیوں ہو جاتا ہے اور اسے کیا کہتے ہیں؟ جانیے اس سے متعلق وہ باتیں، جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

image

دنیا میں ایسی کئی پراسرار جگہیں موجود ہیں جو کہ اپنی پراسراریت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کئی راز رکھتی ہیں۔ ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو برمودا ٹرائی اینگل سے متعلق ہی معلومات فراہم کریں گے۔

برمودا ٹرائی اینگل ایک ایسا مقام ہے، جہاں بہت سے سمندری جہاز، ہوائی جہاز غائب ہو چکے ہیں۔ یہ جہاز کہاں جاتے ہیں، ملبہ کہاں ہوتا ہے، جہاز کے مسافروں کے بارے میں کوئی معلومات اب تک نہیں مل سکیں۔ برمودا ٹرائی اینگل کی پراسراریت اس وقت سے شروع ہوئی تھی جب اس پر مختلف آرٹیکل لکھے گئے۔ ایڈورڈ جونز کی جانب سے ایک آرٹیکل لکھا جس میں انہوں نے پراسرار حادثات کا ذکر کیا، اسی طرح ایک اور فیٹ نامی میگزین نے 1952 میں اس مسئلے پر نظر ڈالی۔
برمودا ٹرائی اینگل میں پراسرار حادثات کا سلسلہ 19 ویں صدی سے ہی شروع ہو گئے تھے لیکن برمودا ٹرائی اینگل میڈیا کی نظروں میں اس وقت آیا جب امریکی بحری جہاز فلائٹ 19، جو کہ 5 بمبار جہازوں پر مشتمل تھا، معمول کی مشقوں کے دوران غائب ہو گیا تھا۔ یوں اس طرح بمبار جہازوں سے لیس جہازوں کا غائب ہونا سب کے لیے حیران کن تھا۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ 1945 کا تھا۔ اس پراسرار واقعہ کے بعد میڈیا سمیت دنیا بھر میں برمودا ٹرائی اینگل کا خوف طاری تھا۔ ہر کوئی اس جگہ کے بارے میں سچ جاننے کے لیے کوشاں تھا۔
فلائٹ 19 جہاز کے غائب ہونے کے بعد اس جہاز کو ڈھونڈنے والے طیاروں میں سے ایک طیارہ بھی غائب ہوا جس نے پراسراریت میں مزید اضافہ کر دیا۔ برمودا ٹرائی اینگل کو جس حد اچھالا گیا اور پراسرار بنایا گیا، اس کے بارے میں جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔ برمودا ٹرائی اینگل سے متعلق کئی افواہیں اور بے سروپا نظریات بھی سامنے آئے ہیں، ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ دجال یہاں موجود ہے جو کہ طاقت حاصل کر رہا ہے اور وقت آنے پر اپنے آپ کو ظاہر کرے گا۔ جبکہ ایک اور نظریہ جو دلچسپی سے خالی نہیں کہتا ہے کہ جنت سات آسمانوں کے اوپر جب کہ جہنم سات زمینوں کے نیچے ہے لہٰذا برمودا ٹرائی اینگل کی تہہ میں جہنّم واقع ہے۔ اس تھیوری کی حمایت میں وہ یہ دلیل یا سائنسی تھیوری سامنے لاتے ہیں کہ بہت سے واقعات میں جب کوئی شخص حرکتِ قلب بند ہونے سے deceased قرار دیا جا چکا ہو لیکن بعد ازاں اس کو ہوش آ جائے اور اس سے پوچھا جائے کہ اس نے مرنے کے بعد کیا دیکھا تو وہ بتاتا ہے کہ اسے ایک تکون دکھائی دے رہی تھی اور سامنے سے روشنی آ رہی تھی جب کہ اسے کانوں میں بہت شور سنائی دے رہا تھا جیسے لوگ چلّا رہے ہوں۔ یاد رہے کہ زمین کی تہہ سورج جتنی ہی گرم ہے اور اس تھیوری کے مطابق جہنّم کی آگ بھی سورج جیسی گرمی رکھتی ہے۔
اسی طرح برمودا ٹرائی اینگل کو شیطان کا مسکن بھی کہا جاتا ہے، اس کے ٹرائی اینگل کی شیپ کی وجہ سے اسے اس طرح کہا جاتا ہے۔ جبکہ اکثر حلقے اسے جنات اور بھوتوں سے متعلق واقعات سے بھی تشبیہہ دیتے ہیں۔ امریکی جہاز فلائٹ 19 کا ذکر 1962 میں ایک مرتبہ پھر آیا تھا، کیونکہ امریکن لیجن نامی میگزین میں ایلن ایکرٹ نامی صحافی اس جہاز کے لیڈر کے آخری الفاظ سے متعلق لکھتے ہیں کہ ہم سفید پانی میں داخل ہو رہے ہیں، کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہم کہاں ہیں۔ پانی سبز ہے۔ نہیں سفید ہے۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ نیوی کے جس بورڈ نے اس واقعے کی انکوائری کی اس نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ یہ تمام جہاز ’مارس کی طرف اڑ گئے‘۔

سائنسدان کیا کہتے ہیں؟

سائنسدانوں نے برمودا ٹرائی اینگل سے متعلق تمام افواہیں، شکوک و شبہات دور کرنے کی کوشش کی مگر سنسنی اور پراسراریت نے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ 2016 میں کولور اڈو یونی ورسٹی کی ایک تحقیق میں اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ برمودا ٹرائی اینگل کے حصے کے اوپر ایسے شش پہلو بادل پھیلے ہوئے ہیں جو کہ ممکنہ طور پر بحری جہازوں اور طیاروں کی گمشدگی کا باعث بنتے ہوں۔
یہ شش بادل 65 میل فی گھنٹہ کی رفتارسے چلنے والی ہوائیں پیدا کرتے ہیں، جو ہوائی بم کے طور پر کام کرتے ہیں اور طیاروں اور بحری جہاز کو تباہ کر دیتی ہے بلکہ انہیں غرق کر دیتی ہے۔ یہ بادل عام بادلوں سے مختلف ہوتے ہیں، ان بادلوں میں ایسے کونے ہوتے ہیں جو کہ عام بادلوں جیسے نہیں ہوتے۔ انہوں نے مزید بتایا ' اس طرح کے بادل سمندر کے اوپر ہوائی بموں کی طرح کام کرتے ہیں، وہ ہوا کے دھماکے کرتے ہیں اور نیچے آکر سمندر سے ٹکرا کر ایسی لہریں پیدا کرتے ہیں جو کہ بہت زیادہ بلند ہوتی ہیں'۔
جبکہ ناروے کی آرکٹک یونی ورسٹی کی جانب سے اپنی تحقیق میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ا خطے میں یہ صورتحال قدرتی گیس یا میتھین گیس کی موجودگی کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ یہ گیس ہوا میں داخل ہو کر طوفانی صورتحال پیدا کرتی ہے جس سے طیاروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس حوالے سے سائنسدان مزید تحقیق بھی کر رہے ہیں، لیکن اس خیال کو یکسر مسترد کرتے ہیں کہ جنات یا شیطان برمودا ٹرائی اینگل میں موجود ہے جو ہر ایک چیز کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US