پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید نے ٹوئٹر پر پاکستان کے مشہور خطاط شفیق الزمان کی ویڈیو شیئر کی ہے، جو کہ مسجد نبوی ﷺ میں کہی سالوں سے عربی فن خطاطی کے جوہر دکھا رہے ہیں۔
ویڈیو میں پاکستانی خطاط شفیق الزمان نے بتایا کہ وہ تیس سال سے زائد عرصہ سے مسجدِ نبوی ﷺ میں خطاطی کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 40 سال سے میں سعودی عرب میں مقیم ہوں۔ پہلے میں ریاض میں تھا، پھر میں مدینہ آگیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نیون محل میں بھی کام کر چکا ہوں۔
شفیق الزمان نے ایک دلچسپ واقع بتایا کہ حرام کیلئے ہونے والے خطاطی کا مقابلہ وہ کیسے جیتے، انہوں نے کہا حرام کیلئے خطاط کی ضرورت تھی، مجھے کمیٹی نے کامیاب قرار دیا۔ کمپٹی والوں نے انہیں عربی سمجھا بعد میں جب ان کو معلوم ہوا کہ میں عربی نہیں ہوں، میں اصل میں پاکستانی ہوں۔
مزید کہا کہ کمیٹی نے تعجب کا اظہار کیا کہ تم اتنی اچھی عربی کیسے لکھتے ہو۔ شفیق نے بتایا کہ انہیں بچپن سے عربی لکھنے کا شوق تھا۔
شفیق الزمان نے بتایا کہ مسجدِ نبوی ﷺ کی گنبد پر خطاطی میں ایک مہینہ لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ ایک بڑی فخر کی بات ہے کہ روضہ رسول پر لگی 3 تختیوں پر خطاطی میں نے اپنے ہاتھ سے کی تھی۔ جس میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا تھا۔ جبکہ یہ تختیاں 24 قیراط سونے سے مزہن ہیں۔
استاد شفیق الزمان کے بارے چند اہم باتیں
پاکستان کے ممتاز خطاط استاد شفیق الزمان 1956 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔
وہ کہی سالوں سے مسجدِ نبوی ﷺ میں بطور استاد خطاط خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
ان کی شہرت کا آغاز 1994 میں ہونے والی عالمی خطاطی کے مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے کے بعد ہوا تھا۔
جبکہ مسجد نبوی میں خطاطی کرنے والے پہلے پاکستانی خطاط ہونے کا اعزاز بھی حاصل کر رکھا ہے۔
حکومت پاکستان نے استاد شفیق الزمان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 14 اگست 2013 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی دیا گیا تھا۔