شہادت ایک ایسا رتبہ ہے جو کہ کچھ کھو کر ہی ملتا ہے، اگرچہ یہ رتبہ نصیب والوں کو ہی ملتا ہے مگر اس خوش ںصیب کو اپنے پیاروں سے جدا ہونا پڑتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایسے ہی جوان کے بارے میں بتائیں گے جن کی اہلیہ اور بیٹی دونوں وطن کے لیے شوہر اور والد کی قربانی پر فخر کرتی ہیں۔
2018 میں میجر اسحاق ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کو ناکوں کان چنے چبواتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ میجر اسحاق کی شہادت نے جہاں پورے ملک کو سوگوار کیا وہیں ان کے اہلخانہ شدید صدمے سے دوچار تھے۔
ہنستا کھیلتا، فرمانبردار اور بہترین دوست، ایک ایسا بیٹا جو یقینا ہر ماں کی خواہش کے مطابق ہو، ایک ایسا شوہر جو ہر بیوی کا آئیڈیل ہو، بھائی ایسا جس پر بہنیں ناز کریں، جبکہ والد کو بیٹے کے ہوتے ہوئے کوئی فکر ہی نہیں۔ میجر اسحاق شہید نے گھر کو ایسے رکھا ہوا تھا جیسے کہ وہ سب کچھ سنبھال لیں گے، اور حقیقت میں وہ سنبھال رہے تھے۔
لیکن شاید وطن کی حفاظت اور دفاع ان کے لیے نہایت اہم تھا، کیونکہ ان کی والدہ کو گھر میں محفوظ ہیں مگر دیگر بیٹوں کی مائیں غیر محفوظ تھیں، ان کے لخت جگر غیر محفوظ تھے۔ میجر نے اپنی جان کا نظرانہ دے کر بہت سی خواتین کو بیوہ ہونے سے بچا لیا تھا۔
میجر اسحاق شہید کی اہلیہ ایک باہمت خاتون ہیں یہی وجہ تھی کہ انہوں نے شہید کے جسم پر موجود پٹیوں سے کلمہ لکھا اور اسے فریم بنا کر گھر پر لگا لیا ہے۔ لیکن ان کی بیٹی فاطمہ اسحاق جس سے والد نے حد پیار کرتے تھے آج بھی والد کو کو یاد کرتی ہیں۔ وہ ہر خوشی کے موقع پر بیٹی کوبھی قبرستان بابا سے ملوانے لے جاتی ہیں۔ اگرچہ شہید حیات ہیں لیکن بیٹی باپ کی قبر کے پاس بیٹھ جاتی ہے اور پھولوں سے کھیلتی ہے۔
فاطمہ بھی والد کی طرح آرمی میں جانے کا شوق رکھتی ہیں اگرچہ بچی ابھی چھوٹی ہے مگر اس تصویر سے اندازہ ہو رہا ہے کہ والد کی چیزوں سے کتنا پیار کرتی ہیں۔
فاطمہ والد کی قبر پر موجود پھولوں سے کھیلتی بھی ہے اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے دعا بھی کرتی ہے۔
28 سالہ کیپٹن اسحاق کا تعلق خوشاب سے تھا جبکہ شہید نے کی اہلیہ اور ایک بیٹی بھی ہے۔ لیکن اب جو بات آپ کو بتانے جا رہے ہیں، وہ ہو سکتا ہے آپ کے لیے حیرت کا باعث بنے۔ شہید کی اہلیہ نے دہشت گردوں کو اپنے عمل سے ایک ایسا پیغام دیا ہے جس نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
شہید کی اہلیہ نے آرمی سے بہترین شوٹر کا خطاب حاصل کر لیا ہے جبکہ وہ آرمی کو جوائن کر چکی ہیں۔ شوہر کی شہادت کے بعد اہلیہ ڈاکٹر عائشہ نے آرمی میڈیکل کالج کو جوائن کیا اور ایک ہی عزم تھا کہ دشمن کے آگے ابھی مشکل اور بھی ہے۔ یہ عزم و ہمت ہی تھا کہ ڈاکٹر عائشہ نے اپنی آرمی ٹریننگ کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔
ڈاکٹر عائشہ نے ٹریننگ میں بہترین شوٹر کا خطاب حاصل کر کے ان تمام پاکستان دشمن قوتوں کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ یہ ملک بچانے کے لیے خواتین کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں۔