دنیا میں ایسی کئی منفرد اور حیرت اگیز چیزیں موجود ہیں جنہیں دیکھ کر انسان سوچتا ہے کہ محبت کی عظیم مثال ملنا آج کے دور میں ممکن نہیں ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایسی ہی قبر سے متعلق بتائیں گے جو کہ جھیل کے بیچ میں واقع ہے اور یہ محبت میں بنائی گئی تھی۔
سندھ کے شہر ٹھٹھہ میں کینجھر جھیل کے بیچ میں ایک ایسی تیرتی قبر واقع ہے جو کہ کئی سال پرانی بھی ہے اور سیاحتی مقام کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ تیرتی قبر سندھ کی ایک داستان کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ قبر کسی بادشاہ کی نہیں بلکہ ایک مچھیرے کی بیٹی کی ہے جس کا نام نوری تھا۔ نوری ایک انتہائی سادہ لباس، خوش اخلاق، خوش مزاج طبیعت کی مالک تھی، جتنا نوری کا دل صاف تھا اتنا ہی نوری کا چہرا بھی چاند کی مانند تھا یہی وجہ تھی کہ اسے نوری کہا جاتا تھا۔
نوری کے والد مچھیرے تھے اور وہ جھیل کنارے مچھلیاں پکڑتے تھے۔ جبکہ نوری کینجھر جھیل کے کنارے بیٹھا کرتی تھی، اس کا زیادہ تر وقت اسی جھیل کو محسوس کرنے میں، اس سے باتیں کرنے میں گزرتا تھا۔ نوری اس جھیل کو اپنا دوست سمجھتی تھی، وہ اس سے اپنے جذبات شئیر کرتی تھی۔
نوری ایک دن والد کا ہاتھ بٹانے ان کے ساتھ جھیل کو چل دی، اسی دن بادشاہ بھی شکار کو آ رہے تھے، تو تمام مچھیرے بادشاہ کا استقبال کرنے پہنچ گئے۔ بادشاہ کو دیکھنے کے لیے نوری بھی بے تاب تھی، جبکہ دوسری جانب بادشاہ جام تماچی جب جھیل پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا لیکن بادشاہ کی نظر نوری پر آ کر ٹھہر سی گئی۔
وہ نوری کو ہی دیکھتے رہے، جیسے کہ بادشاہ نے ایسا چہرہ کبھی دیکھا ہی نہ ہو۔ بادشاہ نے نوری کو شادی کا پیغام پہنچایا جس کا سن کر گاؤں والے حیران رہ گئے تھے کیونکہ نوری ایک مچھیرے کی بیٹی تھی اور بادشاہ کا رشتہ ایک بہت بڑی بات تھی۔
نوری بھی اس رشتے سے خوش تھی مگر کچھ لوگ ایسے تھے جو کہ خوش نہیں تھے۔ دراصل بادشاہ کی یہ ساتویں شادی تھی یعنی نوری کی 6 سوتن پہلے ہی محل میں موجود تھیں۔
ساری سوتنیں نوری کو اس کی خوبصورتی، بادشاہ کی توجہ اور اچھے برتاؤ کی وجہ سے پسند نہیں کرتی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ بادشاہ کے سامنے نوری کو منفی طور پر دکھایا جائے مگر ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا اور بادشاہ کے لیے نوری کی محبت مزید بڑھ جاتی۔
بادشاہ کی دیگر بیویوں نے یہ الزام لگایا کہ نوری محل سے زیورات چوری کر کے ایک لکڑی کے باکس میں ڈال کر بھائی کو دیتی ہے۔ بادشاہ کو اس بات پر شدید غصہ آیا، وہ یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ جس سے میں نے دل و جان سے محبت کی، اس نے مجھے دھوکہ دیا۔
سچ سامنے لانے کے لیے بادشاہ نے اہلکاروں کو حکم دیا کہ اب بھائی آئے تو اسے رنگے ہاتھوں پکڑ کر میرے پاس لایا جائے۔ نوری نے حسب معمول بھائی کو رخصت ہوتے وقت وہی لکڑی کا باکس تھما دیا۔ وہ باکس بھائی سمیت اہلکاروں نے پکڑ لیا اور بادشاہ کی خدمت میں پیش کر دیا، لیکن اس باکس میں بجائے زیورات کے مچھلی کے کانٹے برآمد ہوئے۔
یہ دیکھ کر بادشاہ حیران رہ گئے اور نوری سے وجہ دریافت کی، جس پر نوری نے کہا کہ محل کا کھانا مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا اور مجھے گاؤں کا کھانا کھانے کا دل کر رہا تھا، اگر آپ کو محل کے کھانے سے متعلق ناپسندیدگی کا اظہار کرتی تو آپ غصہ ہو جاتے، اسی لیے آپ سے چھپ چھپا کر بھائی کو کھانے کا کہا۔ اور کھانا کھا کر باکس واپس بھائی کو دے رہی تھی۔
بادشاہ نوری کے اس عمل پر بے انتہا خوش ہوئے۔ نوری اور بادشاہ اکثر ایک ساتھ وقت بتانے کے لیے جھیل کنارے بیٹھا کرتے تھے، اسی مقام پر جہاں نوری اکثر تنہا وقت بتایا کرتی تھی۔ نوری کا انتقال بھی بادشاہ کی گود میں جھیل کنارے ہوا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ بادشاہ نے نوری کا مقبرہ بھی جھیل کے بیچ میں بنوایا، کیونکہ نوری کو جھیل سے عشق تھا اور اپنے محبوب کے عشق کی خاطر کچھ بھی کر سکتے تھے۔