یہ درخت اچانک لوگوں پر حملہ کرنے لگا تھا ۔۔ 100 سال پہلے اسے زنجیروں سے کیوں باندھا گیا تھا جو آج آخری سانسیں لے رہا ہے؟

image

سوشل میڈیا پر دلچسپ اور منفرد معلومات تو بہت دیکھی ہوں گی مگر کیا کسی درخت کو زنجیروں میں جکڑا دیکھا ہے؟

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

خیبر پختنونخوا میں ایک ایسا درخت موجود ہے جو گزشتہ کئی سال سے قید ہے۔ یہ بات سننے میں بھی حیرت انگیز لگتی ہے کہ کسی درخت کو گرفتار کر لیا ہو، عام طور پر جب ہم میں سے کوئی درخت کو زنجریوں میں ڈال دے تو لوگ بے وقوف سمجھتے ہیں۔

لیکن خیبر ایجنسی کے لنڈی کوتل چھاؤنی میں واقع اس برگد کے درخت پر زنجیریں کسی اور نے نہیں بلکہ برطانوی فوجی افسر نے ڈالی تھیں۔ یہ کہانی بھی کافی منفرد اور دلچسپ ہے کیونکہ برطانوی فوجی ایک درخت سے ڈر گیا تھا، وہ اس حد تک خوف میں مبتلا تھا کہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔

دراصل ہوا کچھ یوں کہ چونکہ انگریز جب سرحدی علاقے میں موجود تھے، تو قبائلی بھی اپنی زمین کو بچانے کے لیے لڑ رہے تھے، جس کی وجہ سے انگریز ہر لمحہ ایک خوف میں متبلا ضرور رہتے تھے۔

1898 میں چھاؤنی کے دورے پر آئے جیمز سکوئڈ نے رات کے وقت شراب کا نشہ کیا ہوا تھا، نشے کی حالت میں جب وہ اس برگد کے درخت کے قریب گئے تو انہیں یوں لگا کہ جیسے یہ درخت بھی ان پر حملہ کرنے آ رہا ہے، یہ دیکھتے ہی فوجی افسر نے جوانوں کو اس درخت کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

جوانوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس درخت کو گرفتار کر لیا، گرفتار کچھ اس طرح کیا کہ درخت کی ٹہنیوں پر زنجیریں ڈال کر زمین میں بڑے کیلوں سے باندھ دیا۔ جوان بھی افسر کے اس عمل پر حیران تھے مگر نشے میں دھت افسر کے حکم کو یہی سمجھ کر پورا کر رہے تھے کہ افسر نے کہا ہے۔

اگلے روز دورے پر آیا فوجی افسر جب جانے لگا تو اس درخت کو رہا کرنے کا حکم نہ دے سکا اور پھر وہ دن اور آج کا دن ہے، یہ درخت 122 سال سے یوں ہی اس چھاؤنی میں گرفتار کھڑا ہے۔ اگرچہ درخت گرفتار ہے مگر اس درخت کے پھلنے پھولنے میں ان زنجیروں نے کوئی مشکل نہیں ڈالی ہے لیکن اب یہ درخت بھی آخری سانسیں لے رہا ہے۔

درخت پر ایک تختی بھی لگی ہے جو کہ اس پورے واقعے کو آپ بیتی کے طور پر بیان کر رہی ہے کہ میری کہانی میری زبانی۔ ’ایک شام نشے میں دھت ایک برطانوی فوجی افسر کو ایسا محسوس ہوا کہ میں اپنی جگہ سے ہل رہا ہوں اور اس نے میس سارجنٹ کو حکم دیا کہ مجھے گرفتار کر لیا جائے اور تب سے میں زیر حراست ہوں۔‘’

یہ درخت آج بھی اسی مقام پر اسی طرح موجود ہے جیسا کہ 122 برس پہلے موجود ہے اور ہر آنے والے کو برطانوی دور کے ظلم و ستم کی داستان کو بیان کرتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US