آیت اللہ خمینی کے حکم پر ایرانی جھنڈے اور انتظامی دستاویزات سے شیر اور سورج کے نشان کو سرکاری طور پر ہٹائے جانے کے باوجود اس پرچم نے ایرانی عوام میں اپنا تاریخی مقام برقرار رکھا ہے اور یہ اب بھی بہت سے لوگوں پہلوی خاندان کی یاد دلاتا ہے۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے دو ہفتوں سے جاری ہیں اور اس دوران مختلف شہروں میں متعدد مرتبہ ایک ایسا جھنڈا نظر آیا ہے جس پر شیر اور سورج بنا ہوا ہے۔
مظاہروں میں نظر آنے والے اس جھنڈے پر موجود اس شیر اور سورج کی نہ صرف تاریخی اہمیت ہے بلکہ یہ ماضی میں قومی شناخت کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا۔ سنہ 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد ایرانی جھنڈے سے اس شیر اور سورج کو حذف کر دیا گیا تھا اور اس طرح یہ جھنڈا نئے حکمرانوں کے لیے صرف ماضی کی ایک علامت بن کر رہ گیا۔
آیت اللہ خمینی کے حکم پر ایرانی جھنڈے اور انتظامی دستاویزات سے شیر اور سورج کے نشان کو سرکاری طور پر ہٹائے جانے کے باوجود اس پرچم نے ایرانی عوام میں اپنا تاریخی مقام برقرار رکھا ہے اور یہ اب بھی بہت سے لوگوں پہلوی خاندان کی یاد دلاتا ہے۔
تاہم ان نشانات کے استعمال کی تاریخ بہت پُرانی ہے اور اس کی مذہبی اور ثقافتی جڑیں ہیں۔
ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا پہلوی کو 28 اگست 1980 کو مصر کے شہر قاہرہ میں ریاستی سرپرستی میں سپردخاک کیا گیا تھا۔ مصری سپاہیوں نے ان کا تابوت اٹھا رکھا تھا اور اس تابوت پر شیر اور سورجنشانات والا ایرانی جھنڈا لپٹا ہوا تھا۔
یہ تقریب غالباً ان آخری سرکاری بین الاقوامی تقریبات میں سے ایک تھی جس میں شیر اور سورج والا جھنڈا نمایاں نظر آیا تھا۔
شاہ کی موت سے ایک ماہ قبل آیت اللہ خمینی نے ایرانی حکومت کو متنبہ کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ وہ دس دن کے اندر شیر اور سورج کے نشان کا استعمال بند کر دے۔

اسی برس ایک تقریر میں خمینی نے کہا تھا: ’ایرانی جھنڈے کو شاہی جھنڈا نہیں ہونا چاہئے، ایران کی سرکاری علامتیں شاہی نشان نہیں ہونی چاہئیں بلکہ اسلامی علامتیں ہونی چاہئیں۔ اس بدقسمت شیر اور سورج کو تمام وزارتوں، تمام محکموں سے ہٹا دیا جانا چاہئے۔‘
اس طرح کئی سو سال کی تاریخ کے حامل شیر اور سورج کے نشان کو ایرانی جھنڈے اور قومی کرنسی سے ہٹا دیا گیا۔
شیر اور سورج کے نشانات کی تاریخ
قدیم ایران میں شیر اور سورج انفرادی طور پر اہم علامت سمجھے جاتے تھے۔ ان نشانات کو اچیمینیڈ، پارتھین اور ساسانی ادوار میں بنائی گئی عمارتوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔
پرنسٹن یونیورسٹی سے منسلک مؤرخ اور محقق خداداد رضاخانی کا کہنا ہے کہ شیر اور سورج ان علامتوں میں شامل تھے جنہیں شاہی طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا: ’ساسانی بادشاہوں کے تاجوں پر ہمیں سورج یا ہر قسم کے مدار نظر آتے ہیں جو سورج ہو سکتے ہیں۔‘
شیر اور سورج کئی مقامات پر ایک ساتھ نظر آتے ہیں لیکن ایرانی جھنڈے پر نظر آنے والے شیر اور سورج کے نشانات اچیمینڈ دور(قدیم ایرانی سلطنت)کی ایک مہر سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس میں ایک شیر دکھایا گیا ہے جس کی پیٹھ پر ایک دیوی بیٹھی ہے اور سورج نے ان کے گرد گھیرا بنایا ہوا ہے۔
قدیم افسانوں اور قدیم ایرانی ادب میں بھی بزرگی اور عظمت کے اظہار کے لیے شیر اور سورج کا استعمال عام تھا۔
مورخ اور ییل یونیورسٹی کے پروفیسر عباس امانت کا کہنا ہے کہ فردوسی کے شاہنامے میں ایرانی پرچم پر شیر کی شکل کا ذکر کم از کم دو بار آیا ہے، بشمول تب جب ہجر فاصلے سے سہراب کو رستم کا کیمپ دکھاتا ہے اور اس کے خیمے کی طرف اشارہ کرتا ہے:
’جھنڈے کو دیکھو، یہ ڈریگن کا جسم ہے۔‘
’اس نیزے پر سنہری شیر کا سر ہے۔‘
شیر کے اوپر سورج کا مطلب کیا ہے؟
اپنی 1949 میں شائع ہونے والی کتاب ’دا فلیگ آف ایران، دا لائن اینڈ دا سن‘ میں سعید نفیسی لکھتے ہیں کہ ’شیر کے اوپر سورج کا مطلب عزت کی بلندی اور سربلندی اور شان و شوکت کی بلندی ہے۔‘
نفیسی نے ابو معشر بلخی (نویں صدی عیسوی) اور عبدالرحمٰن الصوفی جیسے ماہرین فلکیات کی بعض کتابوں کے تصویری نسخوں کا بھی حوالہ دیا ہے اور لکھا ہے کہ ان کتابوں میں ’شیر کے گھر میں سورج کی تصویر لی گئی ہےاس کا مطلب یہ ہے کہ شیر واپس آ گیا ہے۔‘
مشہور ماہر فلکیات ابو معشر بلخی کی کتاب سے لی گئی ایک تصویرشیر اور سورج کی شکل والے قدیم ترین سکّے روم کے سلجوک دور کے ہیں۔
ایک ایرانی مؤرخ اور محقق احمد کسروی نے اناطولیہ میں روم کے سلجوق سلطان غیاث الدین کیخسرو دوم کے بچ جانے والے سکوں کو شیر اور سورج کی شکل کی قدیم ترین مثالوں میں شمار کیا ہے۔
کیخسرو دوم 1237 سے 1246 عیسی تک اناطولیہ میں روم کے سلجوق سلطان تھے۔
احمد کسروی کے مطابق سکے پر موجود سورج سلطان کی خوبصورت جارجیائی بیوی گرجو خاتون کی علامت تھا اور شیر خود سلطان کی علامت تھا۔
کیخسرو کے دور کے سکّوں کے ڈیزائن کی اور تشریح بھی کی گئی ہے: ’شیر کے گھر میں فلکیاتی واقعہ، جسے روایتی عقائد میں خوش قسمتی تصور کیا جاتا ہے۔‘
سلجوقوں کے بعد منگولوں نے ایران اور مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں پر حکومت کی، ہندوستان میں تیموری اور مغل دور میں بھی سکوں اور جھنڈوں پر شیر اور سورج کی علامت کا استعمال کیا گیا۔
آج، شیر اور سورج کے نشانات کے استعمال کی ایک مثال سمرقند میں مشہور ’شیر‘ یادگار کے اوپر دیکھی جا سکتی ہے، جو تیموری دور کا ایک نشان ہے۔
خداداد رضاخانی منگول اور تیموری ڈیزائن اور سلجوقی سکے کے ڈیزائن میں فرق کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’ان ڈیزائنوں میں سورج شیر سے زیادہ دور نہیں ہے اور شیر کی پیٹھ پر طلوع ہو رہا ہے۔‘
رضا خانی کے مطابق طلوع آفتاب منگولوں کے لیے مقدس تھا اور سورج کو شاہی خاندان کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا۔
شاہ اسماعیل صفوی کے دور میں شیر اور سورج کے نشانات کا استعمال
881 ہجری میں شاہ اسماعیل صفوی نے ساسانی سلطنت کے خاتمے کے بعد پہلی مرکزی ایرانی سلطنت قائم کی اور اپنی حکومت کا اعلان کیا۔
ان کے بیٹے بادشا طہماسپ نے سبز صفوی جھنڈے پر ایک مینڈھا اور سورج کا نشان رکھا، جسے بعد میں ان کے جانشینوں نے شیر اور سورج سے بدل دیا۔
سعید نفیسی اپنی کتاب ’دا فلیگ آف ایران، دا لائن اینڈ دا سن‘ میں سعید نفیسی لکھتے ہیں کہ ایران میں صفویوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے شاہ اسماعیل کے دادا شیخ جنید کے جھنڈے پر شیر اور سورج کی تصویر کشی کی گئی تھی۔
یورپی مسافروں کے مطابق اس دور کے تانبے کے سکے پر شیر اور سورج کا نشان نظر آتا تھا جسے ’فلوس‘ کہا جاتا تھا۔
کیخسرو دوم کے دور کا سکہاحمد کسروی شیر اور سورج کی تاریخ پر اپنے مقالے میں لکھتے ہیں کہ یہ علامت صفویوں سے پہلے بھی موجود تھیں: ’چونکہ صفویوں کے دور میں شیر اور سورج کے نشانات کا استعمال مشہور محرکات میں ہوا اس لیے اس سے واضح ہوتا ہے کہ صفویوں سے پہلے بھی مذکورہ علامات عام تھیں۔‘
جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر امیر افخمی کے مطابق ’شیر اور سورج صفوی بادشاہت کے تصور کی نمائندگی کرتے ہیں، جس میں سلطان سب سے زیادہ مذہبی اور ریاستی اتھارٹی تھا۔‘
کہا جاتا ہے کہ صفویوں کے جھنڈے پر موجود شیر علی ابن ابی طالب کی علامت جبکہ سورج بادشاہی کا نشان تھا۔
ییل یونیورسٹی کے پروفیسر عباس امانت کے مطابق شیر اور سورج ’اسد اللہ الغالب‘ (خدا کے شیر) کے نعرے کی نمائندگی کرتے ہیں، یعنی علی ابن ابی طالب اور ’یہ خدا کا شیر صفوی دور کی سیاسی شناخت کا حصہ بن گیا۔‘
جھنڈے کے بدلتے رنگ
صفوی خاندان کے زوال کے بعد شیر اور سورج کے نشانات نے نادر شاہ، کریم خان زند اور آغا محمد خان قاجار کے جھنڈوں پر اپنی جگہ برقرار رکھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس جھنڈے کی شکل اور رنگ بدلتے رہے لیکن ان پر شیر اور سورج ہمیشہ موجود رہے۔
آغا محمد خان قاجار کے دور میں ایرانی جھنڈا سرخ تھا اور اس کے درمیان میں ایک شیر اور سورج تھا۔
سبز، سفید اور سرخ جھنڈا سب سے پہلے ناصر الدین شاہ کے دور میں لہرایا گیا تھا۔
یڈن یونیورسٹی کے پروفیسر اور مؤرخ توراج اتابکی کہتے ہیں کہ شیر اور سورج والے جھنڈے کو سب سے پہلے ناصر الدین شاہ کے دور میں امیر کبیر نے مقبول کیا: ’سب سے اوپر ایک سبز پٹی، نیچے ایک سرخ پٹی، اور درمیان میں ایک سفید پس منظر پر ایک شیر اور سورج تھا۔‘
مزے کی بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تانبے کے سکوں پر شیر اور سورج کی علامات میں تبدیلی آئی اور اب اس شیر کو ایشیائی سے افریقی شیر میں بنا دیا گیا ہے۔
ایران میں آئینی دور
ایران میں آئینی دور کی شروعات سے قبل ہر ایرانی حکومت کے جھنڈے مختلف تھے۔
ناصر الدین شاہ اور مظفر الدین شاہ کے دور میں استعمال ہونے والے جھنڈوں میں سے ایک سفید رنگ کا تھا جس کے تین طرف سبز رنگ کی پتلی دھاری تھی اور درمیان میں ایک شیر اور سورج تھا۔
فتح علی شاہ کے زمانے میں ایرانی پرچموں کی ڈرائنگایران میں آئینی دور شروع ہونے کے بعد وعدہ کیا گیا کہ ریاست کو جدید بنایا جائے گا اور اس کا جھنڈا بھی ایک ہوگا۔
آئینی ترمیم کے پانچویں آرٹیکل میں اس نکتے پر زور دیا گیا اور ایرانی جھنڈے کی تعریف اس طرح کی گئی: ’ایرانی پرچم کے سرکاری رنگ سبز، سفید اور سرخ ہیں۔‘
توراج اتابکی کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم لکھنے کے وقت علما ایرانی پرچم پر شیر اور سورج کے نشان کی مخالفت کر رہے تھے کیونکہ وہ اس ڈیزائن کو حرام سمجھتے تھے۔
اتابکی کے مطابق شیر اور سورج کا دفاع پارلیمنٹ میں زرتشتوں کے نمائندے کیخوسرو شاہ رخ کو سونپا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں سبز کو اسلام کی علامت، سفید کو زرتشتیوں کا رنگ اور سرخ کو آئینی شہداء کے خون کی علامت کے طور پر بیان کیا تھا۔
امیر افخمی کہتے ہیں کہ رضا شاہ کے دور حکومت کے آغاز میں شیر اور سورج کے نشان پر اعتراضات کیے گئے تھے: ’پہلوی دور کے آغاز میں ایسے لوگ تھے جو اپنے مذہبی نظریی کی وجہ سے شیر اور سورج کو ہٹانا چاہتے تھے۔‘
سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد شیر اور سورج کو ایرانی پرچم سے ہٹادیا گیا اور جلد ہی اس کی جگہ لفظ اللہ کے نام نے لے لی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 18 میں ایران کے سرکاری پرچم کی تعریف ’سبز، سفید اور سرخ کے طور پر کی گئی ہے جس میں اسلامی جمہوریہ کی خصوصی علامت اور اللہ اکبر کا نعرہ ہے۔‘
ایرانی جھنڈے سے شیر اور سورج کو ہٹائے جانے کے باوجود جنیوا کنونشن اب بھی ریڈ کراس، ریڈ کریسنٹ اور ریڈ کرسٹل کے ساتھ ساتھ سرخ شیر اور سورج کو امداد کی بین الاقوامی علامت کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔