پہلے 50 نمازیں تھیں، پھر اللہ نے 5 نمازیں فرض کیں ۔۔ مولانا طارق جمیل شبِ معراج اور نبی کریم ﷺ کے آسمانوں کے سفر سے متعلق بتاتے ہوئے

image
اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں پر 5 نمازیں فرض ہیں۔ یہ نمازیں آج کی رات یعنی شبِ معراج کی رات کو فرض کی گئیں تھیں۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو دنیا سے ساتویں آسمان پر بُلایا تھا۔ یہ واقعہ تاریخ میں '' شبِ معراج '' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 14 سو برس گزرنے کے بعد بھی اس رات کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ آج کی رات لوگ نمازیں ادا کرتے ہیں۔ اللہ سے دعائیں کرتے ہیں۔ اس کی ذات کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے گناہوں کی معافی کی دعا کرتے ہیں تو کچھ کامیابی کی۔ اس رات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہتے ہیں:
'' اللہ نے شریعت آسمان نے اُتاری لیکن نماز دینے کے لیے معراج پر ساتوں آسمانوں کو پار کرکے بُلایا۔ آپ ﷺ حضرت جبرائیل کے ہمراہ معراج کے سفر پر تشریف لے گئے۔ پہلے آسمان پر آدم علیہ السلام پھولوں کا ہار لے کر استقبال کر رہے تھے۔ دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ، حضرت ذکریا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے استقبال کیا۔ تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام، چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام، پانچویں آسمان پر ہارون علیہ السلام، چھٹے آسمان پر موسیٰ علیہ السلام اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ وہاں سے آگے تو سدرۃ المُنتہیٰ (کائنات کا آخر) تھا۔ سدرۃ المُنتہیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ٹھکانہ ہے جس کے آگے جبرائیل بھی نہیں جا سکتے۔ اس مقام پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اب میں اس سے آگے نہیں جا سکتا، میں جل جاؤں گا۔ اس مقام کے بعد آپ ﷺ اللہ کے پاس کیسے گئے، یہ تو اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتا ہے۔ پھر آپ نے اوپر کا سفر شروع کیا، وہاں عرش کے دروازے نبی ﷺ کے لیے کھلے۔ جب آپ ﷺ عرش پر پہنچے تو اللہ نے اپنے اور عرش کے درمیان جتنے بھی نور کے دروازے تھے سب کھول دیے اور نبی ﷺ کو سلام کہا۔ میرے نبی ﷺ نے التحیات پڑھی جس پر اللہ نے دوبارہ نبی ﷺ کو سلام کہا۔ یہاں نبی ﷺ نے اللہ سے کہا کہ مجھ پر آپ کی رحمت ہے، آپ کا سلام ہے لیکن آپ میری اور میری اُمت پر بھی سلام قبول کریں۔ وہاں اللہ اور ا سکے محبوب کے درمیان بہت سی باتیں ہوئیں۔''
اس کے بات نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے فرمایا کہ: '' یا اللہ! ابراہیم آپ کے خلیل تھے، موسیٰ آپ کے کلیم تھے اور داؤد کے لیے لوہا نرم تھا، سلیمان کے لیے ہوا تابع تھی۔ عیسیٰ علیہ السلام کے لیے مُردے زندہ تھے۔ یا اللہ! میرے لیے کیا ہے؟ '' جس پر اللہ تعالیٰ نے کہا: '' میرے محبوب آپ کے لیے وہ ہے جو کسی کو نہیں دیا، قیامت تک آپ کا اور میرا نام اکٹھا رہے گا، جُدا نہیں ہوگا، آپ کو میرا ساتھ مل گیا۔''
اللہ نے پہلے مسلمانوں پر 50 نمازیں فرض کیں۔ جس پر میرے نبی ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا اور قبول کرلیا۔ جب چھٹے آسمان پر پہنچے تو موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا میرے نبی ﷺ کیا ملا؟ جس پر آپ ﷺ نے فرمایا 50 نمازیں، یہاں موسیٰ علیہ السلام نے کہا میرے نبی ﷺ یہ کچھ زیادہ نہیں ہیں، لوگ کیسے ادا کرسکیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے 5، 5 کرکے نمازوں میں کمی کی اور بلآخر 5 نمازیں فرض کی گئیں۔ اس ملاقات میں اللہ کی طرف سے آپ ﷺ سے کہا گیا:'' میرے محبوب مانگو کیا مانگتے ہو ؟'' ہر مرتبہ میرے نبی ﷺ نے فرمایا:'' میری اُمت کی مغفرت۔'' اس طرح آج کی رات مسلمانوں پر نمازیں فرض کی گئیں۔

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US