"ہم جیسا کھانا کھانا پسند کرتے تھے ہمیں مل جاتا تھا ہم سوچتے تھے کہ یہ کیسے ہوگیا۔ جو مانگتے تھے مل جاتا تھا صرف ایک بار خواہش کا اظہار کرنا ہوتا تھا ممی ہماری ہر خواہش پوری کرتی تھیں"
یہ کہنا ہے 21 سالہ فائزہ کا جس 2 سال کی عمر میں گمشدہ ہونے کے بعد ایدھی سینٹر لائیں گئیں تھیں۔ فائزہ اب شادی شدہ ہیں اور اپنے گھر میں بہت خوش ہیں لیکن اپنی اس خوشی کا ذریعہ وہ بلقیس ایدھی کو قرار دیتی ہیں اور انھیں پیار سے ممی کہتی ہیں۔ فائزہ کا اپنی بلقیس ممی کے لیے مزید کہنا ہے کہ "بیشک میری ماں نہیں تھیں لیکن ممی بلقیس نے مجھے ماں کی طرح سنبھالا۔ انھوں نے 13 مارچ 2022 کو میری شادی کرائی۔ اس وقت میں اپنے سسرال میں ہوں اور بہت خوش ہوں اور یہ ممی کی بدولت ہے"
میٹرک تک تعلیم اور سلائی کڑہائی
ایک لاوارث بچے کی زندگی معاشرے میں کس حد تک بد صورت ہوسکتی ہے اس بات کا اندازہ تقریباً ہم سب کو ہے لیکن جس ملک میں بلقیس ایدھی جیسی خواتین ہوں وہاں کئی لاوارث اور یتیم بچیوں کو ماں کی شفقت اور شادی کے بعد میکہ بھی میسر آجاتا ہے۔ ایدھی وومین شیلٹر میں لڑکیوں کو پالنے پوسنے سے لے کر ان کی تربیت، میٹرک تک تعلیم، سلائی کڑہائی وغیرہ بھی سکھائی جاتی ہے اور مناسب عمر میں ان کی شادیاں بھی کرائی جاتی ہیں۔ اب اگرچہ بلقیس ایدھی کا انتقال ہوچکا ہے لیکن ان کا بنایا ہوا نظام ان کے بچوں اور بہو اور پوتی نے چلانے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ آج اس آرٹیکل میں ہم. جانیں گے کہ بلقیس ایدھی یتیم بچیوں کی شادی کے لئے مناسب جوڑ کا لڑکا کیسے تلاش کرتی تھیں اور انھیں جہیز میں کیا دیتی تھیں۔
رخصتی کے وقت دلہا کو ہدایت
عائشہ بھی بلقیس ایدھی کے زیر سایہ پلنے والی 20 برس کی شادی شدہ لڑکی ہیں۔ ان کے شوہر حسان رضا کہتے ہیں کہ جب ان کی والدہ رشتے کے لئے بلقیس ایدھی کے پاس گئیں تو انھوں نے حسان کو بلایا، کام کاج کا پوچھا اور رشتہ طے کردیا اور رخصتی کے وقت کہا کہ "میری بیٹی کا خیال رکھنا" جبکہ شادی کے بعد وہ ہمیشہ ہر لڑکی سے پوچھتی تھیں کہ تن خوش تو ہو نا
لڑکے کی عمر 30 سال سے زیادہ نہ ہو
اقبال بانو نامی رشتہ کرانے والی ایک خاتون بلقیس ایدھی کے پاس مناسب رشتے لے کر جاتی تھیں جن کے بنیادی کوائف جاننے کے بعد لڑکوں کی پوری جانچ پڑتال کی جاتی تھی۔ دیکھا جاتا تھا کہ کہیں نشہ تو نہیں کرتا اس کے علاوہ ملازمت کی جگہ اور محلے میں بھی پوچھ تاچھ کی جاتی تھی۔ بلقیس ایدھی بیٹیوں کی ذمہ داری سگی ماں کی طرح ہی پوری کرتی تھیں۔ لڑکوں کی عمر 30 سال سے زیادہ ہو تو رشتہ قبول نہیں کرتی تھیں اور نہ ہی دوسری شادی کے لیے لڑکی بیاہنے پر تیار ہوتی تھیں البتہ اگر انھیں محسوس ہوتا کہ لڑکا طلاق یافتہ ہے اور اس کا قصور نہیں ہے تو اقرار کر لیتی تھیں۔
لڑکے سے جڑا ایک واقعہ
اس حوالے سے اقبال بانو نے بلقیس ایدھی کا ایک واقعہ سنایا کہ ایک بار ایک رشتے کے تمام معاملات طے پا چکے تھے لیکن لڑکا ہمیشہ سر پر ٹوپی پہنے رہتا تھا۔ بلقیس ایدھی نے اس سے کہا بیٹا ٹوپی اتاریں جب اس نے ٹوپی اتاری تو اس کے سر پر بال نہیں تھے۔ بلقیس ایدھی نے اسی وقت رشتے سے معذرت کر لی اور اقبال بانو سے کہا کہ " کل کو میری بیٹی کہے گی تم نے میری شادی گنجے سے کرادی"
لڑکیوں کو ملنے والا جہیز
عائشہ اور فائزہ کا کہنا ہے کہ بلقیس ممی جہیز میں ضرورت کی ہر چیز دیتی تھیں جس میں سونے کا سیٹ، ٹی وہ، بیڈ روم سیٹ اور برتن وغیرہ شامل ہوتے تھے۔