قبر کی بے حُرمتی کرنا کسی بھی مذہب میں جائز نہیں ہے۔ ہر کوئی اس کی ممانعت کرتا ہے۔ مرنے کے بعد تو قبر کا سکون ہی کسی بھی شخص کا آخری سکون اور آخری گھر ہے۔ لیکن کچھ کالی بھیڑیں قبروں کو بھی کھود ڈالتی ہیں، قبروں سے مردوں کو نکال کر ان کی بے حرمتی کرتی ہیں، ان کی لاشوں کو لاکھوں روپے کے عوض بیچ دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی گھناؤنا عمل کراچی میں بڑی تعداد میں کیا جاتا ہے۔
حال ہی میں کراچی مومن آباد قبرستان میں مردوں کو قبروں سے نکالنے والے گورکن
کو
گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ اس گورکن کے پاس سے چند ماہ قبل دفنائے گئے بچے سمیت 2 افراد کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ جس کے بعد مزید تفتیش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ گورکن کس کے لیے کام کر رہا ہے اور اس نے قبروں کی بے حرمتی کیوں کی؟ تفتیش میں ایک اور سوال بھی سامنے آیا ہے کہ کراچی شہر کے قبرستانوں میں قبروں کی بے حرمتی جیسے ناجائز کام کس کی سرپرستی میں سرِعام کیے جارہے ہیں؟ یہ گورکن قبریں کھودنے اور دوبارہ مردوں کو نکالنے کے لیے کتنی رقم وصول کر رہے ہیں؟
صرف کراچی شہر ہی نہیں بلکہ پنجاب کے شہر گجرات کے قصبہ ٹانڈہ میں بھی 4 مئی کو 20 سالہ ذہنی اور جسمانی معذور لڑکی کا انتقال ہوا تھا۔ جس کی تدفین مقامی قبرستان میں کر دی گئی تھی مگر 5 مئی کی رات نامعلوم ملزمان نے قبر کھود کر لاش باہر نکال کر بے حرمتی کی اور پھر وہیں پھینک دی تھی۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے گجرات میں معذور لڑکی کی لاش کی بے حرمتی کے واقعے کا نوٹس لیا۔ انہوں نے کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن اور آر پی او گوجرانوالہ سے رپورٹ طلب کر لی۔