جانور اکثر انسان کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں، کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں انسان گمان بھی نہیں کر سکتا ہے کہ یہ انسان کے دوست بن سکتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کافی وائرل ہے جس میں ایک شخص بنگالی ٹائیگر کے قریب موجود ہے۔ دراصل بنگالی ٹائیگر کے ساتھ موجود یہ شخص اس ٹائیگر کا دوست ہے۔
ان دونوں میں دوستی کچھ اس طرح ہے کہ ٹائیگر اپنے دوست کے ہاتھوں سے کھانا کھاتا ہے۔ یہ بنگالی ٹائیگر دراصل مادہ ٹائیگر ہے جن کی انڈونیشیاء کے عبداللہ شولیح نامی نینی کے ساتھ گہری دوستی ہے، عبداللہ ان بنگالی ٹائیگرز کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
عبداللہ بتاتے ہیں کہ میں انہی بنگالی ٹائیگرز کے ساتھ رہتا ہوں جبکہ انہیں سمجھنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔ عبداللہ ان ٹائیگرز سے اس حد تک قریب ہو جاتے ہیں، کہ کئی بار ٹائیگرز نے ان پر حملہ بھی کیا ہے۔
لیکن عبداللہ اسے بھی ایک طرح سے جانوروں کا پیار اور قربت سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ٹائیگر مجھ پر حملہ کرتا بھی ہے تو وہ صرف میرے ساتھ کھیل رہا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے تھوڑا بہت نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
جس مادہ ٹائیگر کے ساتھ عبداللہ کافی قریب ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عبداللہ نے اس مادہ ٹائیگر کو اس وقت سے سنبھالا ہوا ہے جب سے یہ اس جگہ لائی گئی ہے اور پھر اب دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے ہیں۔ کبھی خود مادہ ٹائیگر عبداللہ کے پاس آجاتی ہے تو کبھی عبداللہ، اگر کہیں عبداللہ آرام کر رہا ہو تو مادہ ٹائیگر عبداللہ کے پاس آ کر آرام کرنے لگتی ہے۔
اس مادہ ٹائیگر کے لیے اگرچہ عبداللہ تازہ گوشت بھی تیار کرتا ہے مگر پھر بھی اسے عبداللہ کے ہاتھ کے نوڈلز بے انتہا پسند ہیں۔ اگرچہ دونوں میں پیار ہے مگر ایک انسان ہے تو دوسرا حیوان ہے، جو کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔