گھر میں آم آتے ہی امی سب سے پہلا کام یہ کرتی ہیں کہ آم کو کسی بالٹی یا بڑے سے برتن میں پانی ڈال کر بھگو دیتی ہیں۔ آم کچھ گھنٹے بھیگنے کے بعد ہی فریج میں رکھے جاتے ہیں اور اس کے بعد ہی کھائے جاتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ پھل تو ہم سارا سال ہی کھاتے ہیں لیکن پھلوں کے بادشاہ کے ساتھ اس خاص الخاص سلوک کا کیا مقصد ہے؟ چلیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ محترم آم کو استقبال کے ساتھ ہی نہلانا کیوں ضروری ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو اس سے کیا نقصان ہوسکتا ہے۔
گرم تاثیر کو کم کرنے کے لئے
آم ایک گرم تاثیر رکھنے والا پھل ہے۔ ایسے نوجوان اور بچے جنھیں ایکنی یا گرمی دانے نکلتے ہوں انھیں آم کھانے میں احتیاط کرنی چاہئیے یا پھر کم سے کم آم کو کھانے سے پہلے پانی میں بھگو لینا چاہئیے تاکہ پھل کی گرمی پانی میں نکل جائے۔ سائنسی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو آم میں تھرموجنیسیس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس سے جسم میں گرمی دانوں کے علاوہ ہاضمے کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔
کیڑے مار دوائیوں کا اثر ختم کرنے کے لئے
آم ایک خاص پھل ہے جس کی فصل کا سارا سال انتظار کیا جاتا ہے اور یہ انتظار صرف ہم ہی نہیں بلکہ کیڑے مکوڑے بھی کرتے ہیں اس لئے آم کی فصل پر دوائیوں وغیرہ کا چھڑکاؤ بھی کثرت سے کیا جاتا ہے اس لئے آم کو پنی میں بھگونا اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ دوائیوں کا اثر ختم ہوجائے اور پھل صاف ستھرا ہوجائے۔
آم کو کتنی دیر بھگوئیں؟
آم کو کم سے کم آدھا گھنٹہ لازمی بھگونا چاہئیے اور چاہیں تو ایک سے دو گھنٹہ اور اس سے زیادہ ٹائم کے لئے نھی بھگویا جاسکتا ہے۔