اگر روح نکل جائے تو انسان کا وزن کتنا رہ جاتا ہے؟ سائنسدان کا ایسا تجربہ جس میں موت میں جاتے ہوئے مریض کے ساتھ کیا ہوا؟

image

کیا انسان میں سے روح نکلنے کے بعد وزن کم ہو جاتا ہے؟ اور اگر ہاں تو کیوں، یہ چند ایسے خوفناک سوالات ہیں جن کا جواب اگرچہ خوفناک ہے مگر جاننے کی جستجو اکثر لوگوں کی ہوتی ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

سائنسدان اس حوالے سے کئی تجربات کرتے رہتے ہیں، کامیابی کے حصول تک ہار نہیں مانتے ہیں، ایسے ہی ایک لاس اینجلس کے سائنسدان تھے، جن کا نام تھا ڈاکٹر ابراہام، جنہوں نے روح اور انسان سے متعلق ایک تجربہ کیا۔ ڈاکٹر ابراہام نے انسانی روح کا وزن معلوم کرنے کے لیے نزع کے شکار لوگوں پر پانج سال میں بارہ سو تجربے کیے۔ .

وزن ناپنے کے لیے انہوں نے ایک حساس ترازو بنایا تھا جو کہ شیشے کے باکس کا بنا ہوا تھا، اس ترازو میں مریض کو لٹایا جاتا اور پھر مریض کے پھیپڑوں کی آکسیجن سمیت اس کے جسم کا وزن معلوم کیا جاتا تھا، اور پھر جب مریض مر جاتا تو دوبارہ اسی طرح وزن معلوم کیا جاتا، تاکہ معلوم ہو سکے کہ مرنے سے پہلے اور بعد میں کتنا فرق آیا۔

یوں اس طرح ڈاکٹر ابراہام نے 5 سال میں 1200 سے زائد تجربات کیے تھے، ہر نیا تجربہ نے انہیں مزید کھوج لگانے کی امید دلاتا اور حیران بھی کر رہا تھا۔

کئی تجربات اور کامیابیوں اور ناکامیوں کے بعد ڈاکٹر ابراہام نے اس بات کا اعلان کیا کہ انسانی روح کا وزن 21 گرام ہوتا ہے، یعنی تقریبا 14 چھوٹے لوہے کے دانوں جتنا وزن لیے روح انسان کے جسم موجود ہوتی ہے۔

یہ 21 گرام دراصل پھیپڑوں میں آکسیجن کی صورت میں موجود ہوتے ہیں، جو کہ انسان کو ہچکی صورت میں جسم پر وار کرتے ہیں اور پھر ان 21 گرام آکسیجن کو باہر دکھیل دیتے ہیں۔ اس طرح انسان اس جہان فانی سے کوچ کر جاتا ہے۔

ان تجربات میں کئی ایسے تجربات بھی تھے جو کہ حیرت زدہ تھے، لیکن اس خوف سے بھری تحقیق نے نہ صرف سب کو حیرت میں مبتلا کیا بلکہ سب کی توجہ بھی مبذول کی تھی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US