ہر والدین کا یہی خواب ہوتا ہے، کہ اس کی اولاد پڑھ لکھ کر ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں پر اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
سوشل میڈیا پر ایک ایسے والدین بھی کافی وائرل ہو گئے، جن کی 5 بیٹیاں اُن پر بوجھ بننے کے بجائے والد کا سہارا بن گئیں۔
عام طور پر جب بیٹی پیدا ہوتی ہے، تو والدین تو خوش ہوتے ہی ہیں، لیکن سماج اور گھر والے ضرور کچھ نا کچھ ایسا کہہ جاتے ہیں، جو کہ والدین کے لیے پریشانی کا باعث بن جائے۔
بھارت کے شہر راجھستان سے تعلق رکھنے والے کسان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جس کی 5 بیٹیوں کے پیدا ہونے پر سماج نے اسے بوجھ اور مشکل کا طعنہ دیا۔
یہاں تک کہ بیٹیوں کے پڑھانے پر بھی سوال اٹھایا، کیونکہ بھارت کے سماج میں اب بھی یہ خیال عام ہے کہ لڑکیوں پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے ان کی شادی کرا کے انہیں ان کے گھر کی کردو۔
لیکن کسان ساہ دیوسہارن نے معاشی تنگی اور مشکلات کے باوجود اپنی پانچوں بیٹیوں کو نہ صرف پڑھایا بلکہ سماج میں اپنے پیروں پر کھڑے ہونا بھی سکھایا۔
چھوٹے سے گاؤں میں مٹی کے گھروں میں رہنے والے ساہ دیو اور ان کی فیملی نے ہر لمحہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا، یہاں تک کہ بچیوں کو اسکول بھیجنے کے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے۔
لیکن ہمت نہ ہاری اور والد نے گھر ہی میں اپنی پانچوں بیٹیوں کو پڑھائے، والد نے پانچوں بیٹیوں کو اس حد تک پڑھایا کہ بیٹیاں کامیاب ہو ہی گئیں۔
بڑی تین بیٹیوں نے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد راجھستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے امتحانات میں پاس ہو گئیں، جس کے بعد دیگر دو بہنیں بھی اسی جستجو اور محنت میں لگ گئیں۔
اسی دوران بڑی تین بہنوں نے نہ صرف سرکاری افسر بن کر اپنا کام شروع کیا، بلکہ پہل اکیڈمی کے نام سے کوچنگ سینٹر بھی کھول لیا، جہاں سی ایس ایس کی طرح کے امتحانات کے حوالے سے کینڈیڈیٹس کو تیار کیا جاتا ہے۔
والد کی ہمت، والدہ کی سپورٹ اور گھر کا ماحول تھا، جس نے ان 5 بہنوں کو آگے بڑھنے اور کچھ کر دکھانے کا موقع دیا۔