زندگی انسان کو کیا کچھ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ کچھ اس حد تک پریشان ہوتے ہیں، جو کہ محض اب زندگی میں سکون چاہتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی نوجوان کے بارے میں بتائیں گے۔
حیدر آباد سے تعلق رکھنے ملنگ نے درخت پر اپنا گھر بنایا ہوا ہے، جہاں پرندے موجود ہوتے ہیں، وہیں یہ شخص اب درختوں پر اپنا گھر بنا رہا ہے۔
گزشتہ 25 سال سے درخت پر رہنے والا یہ ملنگ درخت پر جھونپڑا بنائے ہوئے ہے، اس درخت پر رہنے والے شخص کو مشکل اس لیے بھی پیش آتی ہے کہ درخت پر چڑھنا آسان نہیں ہے۔
رات کو 3 بجے مزدوری کرنے والا شام کو 6 بجے واپس آتا ہے۔ لکڑی، کمبل، سمیت کئی ناکار چیزوں سے بنا یہ گھر محض زندگی گزارنے کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن اس سب میں شخص کا یہ ماننا ہے کہ اللہ کا شکر ہے چھت مل گئی۔
میں گاؤں کا شخص ہوں، یہاں رہنے کو جگہ نہیں ہوتی، یہاں تک کہ ہوٹل والے 10 ہزار روپے کا مقروض ہوں، شخص کا کہنا تھا کہ 25 سال میں آج تک میں خوشی کا دن نہیں دیکھا۔
درخت پر موجود کیڑے مکوڑے جب کبھی مجھے کاٹتے ہیں، تو میں ان کے لیے رزق لے آتا ہوں، جس سے وہ مجھے نہیں کاٹتے ہیں۔
محنت مزدوری کرنے والا یہ شخص گاؤں کا رہنے والا ہے، تاہم گھر والوں کو علم ہی نہیں کہ ہمارا پیارا شہر میں کس طرح گزر بسر کر رہا ہے۔