سہیلی نے مجھے قرضہ دیا اور پھر ۔۔ بزرگ کی دعا نے کیسے اولاد عطا کی؟ مشہور شخصیات کی زندگی سے متعلق دلچسپ معلومات

image

سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات سے متعلق ایسی کئی معلومات ہیں، جو کہ سب کی توجہ خوب سمیٹ لیتی ہیں، لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں، جو کہ سب کو حیران کر دیتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو مشہور شخصیات کے حوالے سے بتائیں گے۔

فردوس عاشق اعوان:

فردوس عاشق اعوان کا شمار پاکستان کی مقبول ترین سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی سے بے حد پیار تو کرتی ہیں، تاہم بیٹی کو بھی ڈاکٹر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فردوس عاشق اعوان اپنی بہنوں سے بھی بے انتہا محبت کرتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر اچھے برے وقت میں ان کی بہنیں فردوس کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔

دوسری جانب فردوس عاشق اعوان بتاتی ہیں کہ اکلوتا ستارہ میری بیٹی ہیں جو کہ میڈیکل کی طالبہ ہیں، فردوس عاشق اعوان اپنی بیٹی سے بے انتہا ٹوٹ کر محبت کرتی ہیں، یوں معلوم ہوتا ہے کہ بیٹی والدہ کی جوانی ہیں، کیونکہ بیٹی کے نین نقش والدہ ہی کی طرح ہیں۔

بیٹی کہتی ہیں کہ انہوں نے کچھ کوائلٹیز امی کی لی ہیں جبکہ کچھ وہ میڈیکل سے سیکھ رہی ہیں۔ ہمارے دشمن بھی ہیں لیکن ہمارے ساتھ عوام ہے۔ ہر عید پر والدہ ساتھ ہوتی ہیں لیکن مصروفیت کی وجہ سے والدہ کے ساتھ زیادہ وقت نہیں بتا پاتے۔

زرتاج گل:

خوبرو، باصلاحیت اور مقبول ترین سیاست دان جو کہ وزیر بھی رہ چکی ہیں، زرتاج گل اپنے دلچسپ انداز کی بدولت سب کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں۔

لیکن زرتاج گل کی فیملی بھی سب کی خوب توجہ سمیٹ رہی ہے، اس کی وجوہات بھی کچھ دلچسپ ہیں۔ زرتاج گل بتاتی ہیں کہ میرے دادا سسر کئی سرکاری عہدوں پر رہ چکے ہیں، جبکہ ان کے سسرال کی کئی زمینیں حکومت کو دی گئی تھیں۔ زرتاج بتاتی ہیں کہ اس علاقے میں ان سسرال کی کئی دکانیں موجود ہیں، لیکن میری کوئی بھی نہیں۔

جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس علاقے کی پہلی جامع مسجد بھی ہم نے بنوائی تھی، جس میں پہلی بار جمعے کی نماز ہوئی تھی۔

زرتاج بتاتی ہیں کہ ان کے دادا سسر کی عقیدت حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری سے تھی، چونکہ دادا سسر کی کوئی اولاد نہیں تھی، ان صوفی بزرگ نے دادا سسر کو مشورہ دیا کہ تم مسجد اور اسکول بناؤ، اللہ تمہیں اولاد دے گا۔ وہ بتاتی ہیں کہ تقریبا 50 سال کی عمر میں دادا سسر کی اولاد ہوئی تھی۔

ڈاکٹر یاسمین راشد:

ڈاکٹر یاسمین راشد بھی سب کی توجہ خوب سمیٹ لیتی ہیں، کیونکہ عوامی انداز اور باہمت خاتون کے طور پر جانی جانے والی سیاست دان اس لیے بھی سب کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں، کیونکہ وہ اس وقت کینسر سے لڑ رہی تھیں، لیکن اس کے باوجود اپنے عہدے یعنی وزیر صحت کی ذمہ داریوں میں کمی نہ آنے دیں۔

یاسمین راشد کے حسن اخلاق، سادگی، عاجزی اور انکساری کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے جب ان کی سہیلیوں نے انہیں قرض دیا۔

سابقہ وزیر صحت بتاتی ہیں کہ جب لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ تم نے اتنا دور گھر کیوں بنا لیا، تو میں کہتی تھی کہ میرے پاس تو وہی ایک گھر تھا۔ گھر کی تعمیر شروع ہو گئی تھی لیکن اس وقت یاسمین راشد ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھیں، جہاں یا تو ایک انسان گھر بنا سکتا ہے، یا زندگی کے دوسرے کاموں پر پیسہ لگا سکتا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ آدھا گھر بن چکا تھا، مگر پھر کام رک گیا، جب یاسمین راشد کی سہیلیاں آتیں، دیکھتی اور کہتی کہ یہ جو اسٹرکچر کھڑا کیا ہے، یہ گر جائے گا، جس پر یاسمین راشد نے کہا کہ پیسے ہی نہیں ہیں، کہاں سے پورا کروں۔

میری سہیلیوں نے کہا کہ ہم تمہیں قرضہ دیں گے، ڈاکٹر جویریہ نے مجھے 50 ہزار روپے دیے، میری سہیلیوں نے مجھے قرضہ دیا اور میں گھر کا حصہ تیار کیا۔ اگرچہ میں اس وقت گائناکالوجسٹ تھی اور کما رہی تھی، مگر اس وقت بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

بچوں کی تعلیمی اخراجات میں پھر بیلنس کرنا پڑتا تھا کہ گھر مکمل کرنا ہے یا بچوں کو پڑھانا ہے۔ یہاں تک کے بیٹی کی شادی ہو رہی تھی اور ہمارا گھر تیار نہیں تھا، اوپر کا حصہ تیار تھا لیکن نیچے کا حصہ تیار نہیں تھا۔

عابدہ پروین:

1954 میں پیدا ہونے والی عابدہ پروین کا تعلق لاڑکانہ سے تو ہے، تاہم ان کا گھرانہ صوفی ازم سے کافی لگاؤ رکھتا ہے۔ عابدہ پروین کے والد غلام حیدر نے جب بیٹی کو دیکھا کہ وہ بھی اسی طرف کافی لگاؤ رکھتی ہے۔

تو 3 سال کی عمر سے ہی بیٹی کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا تھا، باقاعدہ کلاس میں بھی جاتیں اور پھر درگاہوں پر بھی خاص طور پر مدعو کیے جانے لگیں۔

عالمی شہرت پانے والے عابدہ پروین نے صوفی کلام کو کچھ اس طرح بیان کیا، کہ سننے والا اشک اشک کرتا گیا۔

Reviewit.pk ویب سائٹ کے مطابق عابدہ پروین کی شادی غلام حسین شیخ سے ہوئی تھی، جو کہ ریڈیو پاکستان میں سینئر پروڈیوسر تھے۔ شوہر نے بھی اہلیہ کو ہر لمحہ سپورٹ کیا، شوہر کے انتقال کے بعد بھی عابدہ پروین نے نہ صرف خود کو سنبھالا بلکہ اپنے بچوں کو بھی ہر لمحہ ہمت دیتی رہیں۔

مریم اورنگزیب:

سابق وزیر اطلاعات اور پاکستان مسلم لیگ ن کی اہم رہنما مریم اورنگزیب کا شمار بھی اب مقبول ترین اور باصلاحیت سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔

تاہم وہ آج کل سوشل میڈیا پر بھی کافی توجہ سمیٹ لیتی ہیں، گزشتہ سال جب وہ خانہ کعبہ اور مسجد نبویﷺ پر حاضری کے لیے گئی تھیں، تو پاکستانیوں کی جانب سے مقدس مقامات پر بھی ان کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی، جس کا انہیں شدید افسوس تھا، کیونکہ وہ جس مقام پر کھڑی تھیں، وہاں وہ ان سب کی امید نہیں لگا رہی تھیں۔ دوسری جانب مریم اپنے دونوں بیٹوں سے بھی بے انتہا محبت کرتی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US