کیا آپ نے کبھی باتھ روم میں نہاتے ہوئے کینو کھایا ہے؟ شاید یہ سننے میں آپ کو عجیب لگے مگر بہرحال اب ایسا ہورہا ہے۔ جی ہاں۔ مختلف ممالک میں لوگ نہاتے ہوئے کینو باتھ روم میں لے جاتے ہیں اور وہاں نہاتے ہوئے کینو کھاتے ہیں۔ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آئیے جانتے ہیں
حال ہی میں میگی میچالزیک نام کے ماہر غذائیت نے ہفنگٹن پوسٹ کو اس بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کینو کھانے کا یہ طریقہ ٹک ٹاک پر دیکھا تھا جس میں ایک شخص شاور کے نیچے کینو سے بھرا ہوا تھیلا لئے کھڑا تھا اور مزے سے کینو چھیل کر کھا رہا تھا۔ اسے دیکھ کر سکون کا احساس ہورہا تھا تب میں نے سوچا کہ میں بھی یہ طریقہ ضرور آزماؤں گا۔ اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔
اس کے فائدے
ایک اور ماہر غذائیت ایلیسا نارتھروپ اس عمل کے فائدے بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب پم گرم شاور اور باتھ روم میں کینو چھیلتے ہیں تو اس کا عرق اچھی طرح کمرے میں پھیل جاتا ہے۔ اس کی خوشبو ذہن کو پرسکون کرتی ہے۔ شاور کے نیچے کینو کھانے سے ذائقہ بھی مزیدار لگتا ہے لیکن اصل چیز کینو کی خوشبو ہے جو اعصاب کو فوری طور پر پرسکون کردیتی ہے۔