ماں باپ کے لیے وہ وقت بہت تکلیف دہ ہوتا ہے جب ان کی اپنی سگی اولاد برداشت نہیں کرپاتی اور انہیں اولڈ ایج ہوم میں داخل کروا دیتی ہے۔
'ہماری ویب' ڈاٹ کام کے اس آرٹیکل میں آپ کو ایک ایسی ماں کی دکھ بھری کہانی سنانے جا رہے ہیں جنہیں اللہ نے 8 بچے دیئے مگر وہ ایک ماں نہیں سنبھال سکے۔
ایک خاتون جو بنت فاطمہ فاؤنڈیشن میں رہنے پر مجبور ہیں جن کی اپنی اولاد انہیں اپنے پاس رکھنے کے لیے راضی نہیں ہے، وہ اپنے بچوں کے لیے پھول جیسے الفاظ ادا کر رہی ہے۔
فریدہ خاتون نے کہا کہ وہ ٨ ماہ سے بنت فاطمہ فاؤنڈیشن میں رہ رہی ہیں، انہوں نے بتایا میرے شوہر کے انتقال کے بعد مکان میرے نام تھا جو کھٹک گیا تھا کہ وہ ان کے نام (بچوں) کے نام ہوجائے۔
میرا گھر بہت خوبصورت بنا ہوا تھا ، جب بھی خاندان والے ملنے آتے تھے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ان کا گھر بہت خوبصورت بنا ہوا ہے۔ میری ایک بہو گھر آئی جس کے قدم گھر پر پڑتے ہی سارا سامان چلا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بہو کے آنے کے بعد ہر چیز ایسے بکھر گئی جیسے طوفان آگیا ہو۔
خاتون کا کہنا تھا کہ آخر کار میرا مکان فروخت ہوگیا۔ خاتون نے بتایا کہ میرے 8 بچے ہیں جن میں 2 بیٹے اور چھ بیٹیاں شامل ہیں۔
فریدہ خاتون نے دکھ بھرے الفاظ میں بتاتے ہوئے کہا کہ آہستہ آہستہ میرا گھر خالی ہوگیا اور سب ختم ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے بچوں کے گھر میں تھوڑا تھوڑا بیٹھتی تھی کسی کے ایک گھنٹہ تو کسی کے ایک گھنٹہ۔
خاتون کا مزید کہنا تھا کہ بڑی بہو اپنے گھر میں مجھے زیادہ دیر رہنے نہیں دیتی تھی وہیں ایک بیٹا ان سے یہ کہتا کہ دس ہم دیر سے اٹھتے ہیں دس بجے سے پہلے نہیں آیا کریں۔
ماں نے بتایا کہ میں اپنے بیٹے کے گھر میں تھی تو بہو مجھے گھر کے اتنے کام کرنے پر بھی برا بھلا کہتی تھی۔ میں اپنے بیٹے سے بولتی کہ بہو مجھے یہ سب کہہ رہی ہے تو وہ دیکھ کر دوسری کروٹ لے کر سوجاتا۔
پھر میں اپنے بھائی کے پاس گئی اور ان سے کہا کہ مجھ سے اب برداشت نہیں ہوتا مجھے کسی اولڈ ایج ہوم کے ادارے کے حوالے کردیں میں اس طرح نہیں رہ سکتی۔