قرآن کو حفظ کرنے والے دنیا و آخرت دونوں میں اپنا مقام و مرتبہ بناتے ہیں۔ ان کے دلوں اور سینوں میں قرآن محفوظ ہوتا ہے۔ قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے اس کی برکت سے یاد کرنے والے کا ذہن ہمیشہ دوسروں سے زیادہ کام کرتا ہے۔ ہمارے ہاں ان کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اس لیے میٹرک اور انڑ یہاں تک کہ جامعہ لیول پر پہنچنے والے طلبہ و طالبات کو 20 فیصد مارکس اضافی دیے جاتے ہیں۔
ایسی ہی ایک تصویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کھانے کے ایک سٹال پر دکاندار نے لکھ کر ٹیگ لگایا وہا ہے کہ 20 فیصد اضافی ڈسکاؤنٹ حافظِ قرآن کے لیے ہے۔ یعنی جو جو قرآن کا حافظ ہے جو 20 فیصد کے منافع پر سامان خرید سکتا ہے۔
بتایا جاتا ہے یہ تصویر کشمیر کے ایک دکاندار کی ہے جو چاہتا ہے کہ اس کے بچے اور دیگر بچے بھی قرآن کی تعلیم کو حاصل کریں کیونکہ ان کے سینوں میں قرآں محفوظ ہوگا تو وہ ان کو اچھے کام کرنے اور بدی سے روکنے کی کوشش بھی کرے گا اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی۔ لیکن یہ حقیقی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ دکاندار کی اصل شناخت کیا ہے۔