"بھابھی زرا چائے بنانا"
"بھابھی جب اپنے کپڑے دھو تو میرے بھی دھو دینا"
"میں تو چند دن کی مہمان ہوں ابھی چلی گئی تو پتا نہیں دوبارہ کب آؤں گی۔ بھابھی کا تو منہ ہی بنا رہتا ہے"
یہ شکایتیں اور حکم چلانے کا انداز ان نندوں کا ہوتا ہے جو آئے روز کسی نہ کسی بہانے سے میکے آدھمکتی ہیں۔
البتہ نندوں کا بظاہر یہ عام اور معمول کا رویہ گھروں میں کبھی نہ ختم ہونے والی ناچاقی کہ وجہ بنتا ہے اور اس کی وجہ سے رشتوں میں ہمیشہ کے لئے دراڑ پڑ جاتی ہے۔
بھائی بہن کا رشتہ
اگر بھائی سمجھدار ہے تو وہ یہ ضرور سوچے گا کہ اس کی بہن زیادتی کررہی ہے اور یوں کچھ نہ بھی کہے پھر بھی بہن سے اس کا دل کھٹا ضرور ہوجائے گا۔ دوسری صورت اگر بھائی بیوی کو برا سمجھے گا تو میاں بیوی کا تعلق خراب ہوجائے گا جس سے بھائی کا بسا بسایا گھر ٹوٹ بھی سکتا ہے۔
نند کے اپنے گھر میں کون ہے؟
جب نندیں سارا وقت میکے میں بیٹھی رہ کر بھابھیوں پر ظلم کرتی ہیں تو انھیں اپنے گھر کی کوئی خبر نہیں ہوتی اور اس موقع کا فائدہ تو کوئی بھی اٹھا سکتا ہے۔
بھتیجے بھتیجی ہمیشہ کے لئے دور
اس وقتی ناچاقی سے نندیں اپنے سگے رشتوں یعنی بھتیجا بھتیجی سے ہمیشہ کے لئے نفرت کی دیوار کھڑی کردیتی ہیں جنھیں سالوں گزرنے کے بعد بھی توڑا نہیں جاسکتا۔