میں آپ کو قران کی آیات کا مفہوم بتاتا ہوں ۔۔ مشہور شخصیات، جن پر قرآن کی آیات کا ایسا اثر ہوا کہ زندگی ہی بدل گئی، چند دلچسپ واقعات

image

سوشل میڈیا پر ایسی کئی معلومات ہیں، جو کہ سب کو حیران کر دیتی ہیں، لیکن مشہور شخصیات کی زندگی سب کی توجہ حاصل کر ہی لیتی ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو مشہور شخصیات سے متعلق دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔

عامر لیاقت حسین:

مشہور ہوسٹ اور پاکستانی ٹی وی کی جان عامر لیاقت حسین کو آج مداحوں سے بچھڑے ایک سال ہونے کو ہے، لگ ہی نہیں رہا ہے کہ یہ ستارہ ٹوٹ گیا ہے۔

اپنے دلچسپ انداز اور بااخلاق کردار کی وجہ سے سب کی توجہ حاصل کرنے والے عامر لیاقت حسین نے رمضان میں ایک ایسا ماحول بنا دیا تھا، جس کے بعد مذہبی طور پر رمضان سے لگا ہو گیا تھا۔

لیکن عامر لیاقت کی اس خواہش نے سب کو افسردہ کر دیا، جس میں وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا ہی ان کی نماز جناز پڑھائے۔ دوسری جانب عامر لیاقت شب برات ہو یا شب قدر، ناظرین کو بھی عبادت کی راہ میں لگا ہی دیتے تھے۔

معین اختر:

معین اختر ویسے تو کامیڈی کے بے تاج بادشاہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے میزبان کے ساتھ ساتھ مزاحیہ اداکار کے طور پر بھی خوب کام کیا۔

لیکن ان کا ایک انٹرویو سب کو رلا گیا تھا، وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ جس کو ہم نے بہت دیا ہے، وہ یہ نہ سمجھے کہ ہم اس سے خوش ہیں، اور جس کو نہیں دیا ہے، وہ یہ نہ سمجھے کہ ہم اس سے ناراض ہیں۔

دراصل دونوں کی آزمائش ہے، جب اللہ آپ پر مہربان ہو جائے، تو کائنات کی ہر شہ آپ پر مہربان ہو جاتی ہے اور جب وہ نامہربان ہو جائے، تو چھوٹے چھوٹے لوگ بے عزت ہو جاتے ہیں۔ معین اختر دراصل قرآن کی آیات کے ترجمے کا مفہوم بتا رہے تھے۔

عمر شریف:

عمر شریف نے اگرچہ اپنے دلچسپ انداز کی بدولت مقبول ہوئے تاہم ان وجہ شہرت ان کی بااخلاق کامیڈی تھی۔

عمر شریف کو صرف ایک ہی بات سے گھبراتے تھے اور وہ تھی قبر۔ وہ کہتے تھے کہ کہ مجھے سب سے زیادہ ڈر قبر سے لگتا ہے، کیونکہ یہ انسان پر منحصر کہ اس کی قبر کیسی ہوگی۔ قبر انسان کا کردار بتاتی ہے، جب آدمی اندر جاتا ہے، پسلیاں پسلیوں میں پھنس جاتی ہیں، انسان کچھ بول نہیں سکتا۔ وہ لمحہ ایسا خطرناک لمحہ ہے، اسی لیے قبر وہ ہے جو انسان کے اعمال بتاتی ہے۔

کنول نصیر:

پی ٹی وی کی پہلی خاتون اناؤنسر کنول نصیر کا شمار بھی پاکستان کی مقبول ترین شخصیات میں ہوتا تھا، کیونکہ کنول نصیر نے اس دور میں اپنا کام پیش کیا تھا، جب زیادہ تر عوام ٹی وی کو ہی فوقیت اور اہمیت دیا کرتے تھے۔

اس وقت کنول نصیر کہانیوں کو اپنی آواز میں ناظرین تک پہنچاتی تھیں، تاہم اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق دلچسپ گفتگو کی۔

انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ میں کبھی بھی اداکارہ نہ بن پاتی، ریڈیو پر میں ہزاروں ڈرامیں بول لیتی تھی، مگر ٹی وی کا ڈرامہ میرے بس کا نہیں، مجبوری میں اداکاری کرنا پڑی۔ کنول نصیر بتاتی تھیں کہ میرے شوہر کی پوسٹنگ مختلف شہروں میں ہوتی تھی، تو مختلف شہروں میں جانا ہوتا تھا، لیکن جب میری والدہ لاہور چھوڑ کر امریکہ چلی گئیں، جس کے بعد میرے دل سے لاہور چھوٹ گیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US