9 گز کی ان قبروں میں کون دفن ہے؟ پرانی قبروں سے جڑے ایسے راز جن کے بارے میں لوگ زیادہ نہیں جانتے

image

جیسے جیسے بڑے شہروں سے نکل کر ہم پرانے شہروں اور چھوٹے قصبوں کی جانب بڑھتے ہیں۔ آنکھوں کو حیران کردینے والی تہذیب چونکا دینے کے لئے منتظر ہوتی ہے۔ ملتان بھی ایسا ہی پرانا شہر ہے جہاں موجود 9 گز کی قبریں سیاحوں کے علاوہ عام شہری کو بھی ان میں دفن افراد کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ کیا ان لمبی قبروں میں دفن افراد واقعی اتنے لمبے تھے؟

ان لمبی قبروں میں سب سے زیادہ مقبول قبر سب سے آباد قبر مخدوم پور پہوڑاں اور کبیروالا کے قریب حضرت علی اصحاب کی قبر ہے۔ ہر سال ان کا عرس بھی منایا جاتا ہے علی اصحاب کا عرس ہر سال بالکل اسی طرح منایا جاتا ہے البتہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ قبریں کب بنیں۔

اس کے علاوہ 12 ، 13 یہاں تک کہ 14 گز کی قبریں بھی موجود ہیں جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ یہ کب تعمیر ہوئیں اور ان کے اندر کون دفن ہے۔

ہندو راجا سے جنگ لڑنے والے بزرگ

کہروڑ پکا نامی شہر میں بھی 9 گز لمبی قبر موجود ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے باقی شہروں جیسے کہ سیالکوٹ، لاہور اور چنیوٹ میں بنی لمبی قبروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں ان میں مدینہ سے ہجرت کر کے ہندو راجاؤں سے لڑنے والے بزرگ دفن کیے گئے ہیں۔

حضرت نوح علیہ السلام کے صاحبزادے

ایک جگہ 18 میٹر لمبی قبر پرانے مندر کے قریب موجود ہے جس کے بارے میں علاقائیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت ہیم کی قبر ہے، اسی قبر کے ساتھ ایک سو میٹر لمبائی رکھنے والی قبر حضرت ہیم کے بھائی کے نام سے بھی موجود ہے۔

کیا انسان اتنے لمبے ہوسکتے ہیں؟

انڈیپینڈینٹ اردو میں شائع ہونے والے تحقیقی آرٹیکل کے مطابق کسی انسان کا قد 9 فٹ سے زیادہ ہونے کا امکان ممکن نہیں۔ زیادہ سے زیادہ 9 فٹ قد ہوسکتا ہے کیوںکہ اس سے دماغ تک پہنچانے کے لئے اتنا بلڈ پریشر بڑھ جائے گا کہ انسان کی رگیں اور دل پھٹ سکتا ہے۔ 1955 کے ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا کے سب سے لمبے شخص سلطان کوسس تھا جس کا قد 8 فٹ 8 انچ تھا۔ اس کے علاوہ ہزاروں سے پرانی ممیوں کے قد بھی آج کے انسانوں جتنے ہی تھے۔

بہت ممکن ہے کہ غیر معمولی طور پر لمبی قبریں یا تو اس دور کے بزرگوں کی عظمت کے احترام میں لمبی بنائی گئی ہوں یا پھر ان میں اجتماعی طور پر لاشوں کو دفن کیا گیا ہو۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US