ویسے تو سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات سے متعلق ایسی کئی معلومات موجود ہیں، جو کہ سب کو حیران کر دیتی ہیں، لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں جو کہ سب کی توجہ خوب سمیٹ لیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
پرویز مشرف:
پرویز مشرف کا شمار پاکستان کے مقبول ترین لیڈرز میں ہوتا تھا، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ وقت جب پاکستان میں بھارت کی میل آنکھ تھی، تو اس دوران پرویز مشرف نے خوب بھارت کو آئینہ دکھایا تھا۔
دوسری جانب پرویز مشرف سے متعلق اس لیے بھی سب حیران ہو جاتے تھے، کیونکہ ان کے بچے کوئی پروٹوکل میں زندگی گزر بسر نہیں کر رہے تھے۔
پاکستانی میڈیا کے ایک پروگرام پر ذکر کرتے ہوئے اینکر نے اس بات کا انکشاف کیا کہ سابق صدر کے بچے بغیر کسی پروٹوکول کے اسکول سے گھر آتے تھے، یہاں تک غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق ان کے اسکول کی فیس دینے میں بھی مشکل ہوتی تھی۔
جنرل ضیاء الحق:
جنرل ضیاء الحق کے پشاور کے گھر میں جہاں ان کی والدہ اور گھر والے رہائش پزیر تھے، وہیں ان کے پڑوسی ایک ریلوے ملازم تھے جن کا نام تھا علی محمد عاصی۔ علی محمد عاصی بطور ٹرین ایگزامنر پاکستان ریلوے میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔
80 سالہ علی محمد ریلوے ملازم تو تھے تاہم تنخوہ اتنی نہ تھی کہ حج کو ہو کر آجائیں، یہی وجہ تھی کہ علی محمد نے ایک درخواست لکھی، جو جنرل ضیاء کو دینی تھی، لیکن وہ درخواست جنرل ضیاء کی والدہ کے ہاتھوں میں دے دی۔
چونکہ جنرل ضیاء والدہ کی کوئی بات ٹال نہیں سکتے تھے، اور پھر 1984 میں میں اور اہلیہ نے حج کی سعادت حاصل کی، دراصل یہ حج اس وقت کے شاہ عبداللہ کی جانب سے دیا گیا تھا، شاہ عبداللہ نے جنرل ضیاء سے 100 افراد کو بطور مہمان بلانے کی درخواست کی تھی، یہ 100 وہ افراد تھے جن میں چپڑاسی، نوکر، ڈرائیور، مالی شامل تھے، جن کی تنخواہیں انہیں حج کی اجازت نہیں دیتی تھی۔
عمران خان:
سابق وزیر اعظم عمران خان کی مقبولیت اس لیے بھی بڑھ گئی تھی کیونکہ لنگر خانہ قائم کیا تھا، اس لنگر خانے کی خاص بات یہ تھی کہ غریب کو تین وقت کی روٹی میسر آ رہی تھی۔
جبکہ مسافروں کے لیے آرام کی جگہ بھی بنائی گئی تھی، دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ سابق وزیراعظم نے غریبوں کے ہمراہ کھانا کھایا، جس سے ان کو یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ کم تر ہیں۔