نماز دین کا ستون ہے۔ تجارت کا حکم اسلام میں بیشک ہے لیکن ہمیشہ نماز کے بعد اس دناوی فرض کی ادائیگی کے متعلق بتایا گیا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ نامز کے لیے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مسجد کی جانب لوٹ جاتے تھے اور آج بھی سعودی عرب میں نماز کے لیے دوڑے چلے جاتے ہیں چاہے دکانیں کھلی رہ جائیں، وہاں گراہک ہی کیوں نہ موجود ہوں۔ یہ اللہ کے دین اور حکم کو بجا لانے کی سب سے بہترین مثال ہے جو اج کے دور میں بھی نظر آتی ہے۔ ایسی ہی ایک مثال پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں بھی دکھائی دیتی ہے جو سوشل میڈیا پر بھی خوب تعریفیں سمیٹ رہی ہے۔
یہ تصویر معروف برانڈ کی سیالکوٹ میں موجود آؤٹلٹ کی ہے جہاں بیشک کتنے ہی گراہک مووجد ہوں لیکن نماز کے وقت باجماعت نماز کی ادائیگی ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد لین دین کے معاملات کو دیکھا جاتا ہے۔ تصویر میں آپ غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ کہ خاتون کسٹمر اپنی مرضی کی چیزیں جوں کی توں دیکھ رہی ہیں، انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ رہا، البتہ باقی مرد حضرات تمام کے تمام نماز کی ادائیگی کر رہے ہیں۔
آج کل ایسی مثالیں دیکھنے میں نہیں آتی ہیں اس لیے یہ اپنے وقت کی بے مثال تصویر اور حقیقی واقعہ ہے۔ اس پوسٹ کو دیکھ کر جہاں لوگوں نے انتظامیہ کی تعریف کی وہیں ان کے اس عمل کو خوب سراہا اور ہر کسی کو یہ قدم اٹھانے کی دعائیں بھی دیں۔