چھوٹا قد ہونا کوئی گناہ تو نہیں ہے، یہ خُدا کی طرف سے ایک حقیقت ہے اس نے کسی کا قد چھوٹا تو کسی کا بڑا بنایا ہے۔۔ جس میں کوئی اس سے جھگڑ نہیں سکتا۔ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرسکتے ہیں، اس سے مانگ سکتے ہیں، شکایت بھی کرسکتے ہیں لیکن اس سے جھگڑ نہیں سکتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے لیے اگر آزمائش پیدا کرے تو آسانیاں بھی بنا دیتا ہے۔
ایسے ہی 35 سالہ راشد ہیں جن کا قد صرف اور صرف 3 فٹ ہے، لوگ ان کا خوب مزاق اڑاتے ہیں کہ یہ اتنے چھوٹے رہ گئے ہیں۔ راشد سب سے پہلے ساحر لودھی کے پروگرام میں آئے اور پھر اسی طرح کئی مارننگ شوز میں جلوہ گر ہوتے رہے۔
اپنے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ لوگ مجھے ایسے دیکھتے ہیں جیسے میں کوئی گناہ ہوں، کوئی انوکھا ہوں، قد چھوٹا ہے میرا لیکن میری سوچ چھوٹی نہیں ہے، مجھ سے کون شادی کرے گا اگر میں کہہ بھی دوں تو لوگ کہتے ہیں پہلے خود تو بڑے ہو جاؤ میری عمر 35 سال ہے میری 3 بہنیں اور ایک بھائی ہے میں نے اپنے چھوٹے بھائی کی شادی خود کروائی تھی، اب لوگ میرا مذاق اڑاتے ہیں
ایک دفعہ میرا دوست مجھے بہت دور لے گیا اس نے مجھے بیچ راستے میں اتار دیا یہ سوچے بغیر کے میں کیسے واپس جاؤں گا؟ لیکن میں خود ہی واپس گیا اور رو رہا تھا اس وقت مجھے بہت برالگا تھا۔ لوگوں کے مذاق اڑانے کی وجہ سے ہی میں نے اپنی چڑھائی چھوڑ دی تھی، اب ریسٹورنٹ میں کام کرتا ہوں، 35 ہزار روپے کماتا ہوں، اپنا گھر چلاتا ہوں۔
اب میں طعنے دینے والوں کو وقت ہی نہیں دیتا اور ان کو بھرپور جواب بھی دے دیتا ہوں۔ قد چھوٹا ہونے میں ہمارا تو قصور نہیں تھا پھر۔ قد چھوٹا ہے، تو کیا خُدا سے جھگڑا کروں کہ مجھے کیوں چھوٹا بنایا؟ دوست کے ساتھ جاتا تو لوگ کہتے بونے نے بھی لڑکی پھنسائی ہوئی ہے جس پر لگتا ہے کہ وہ یہ سن کر سوچتی ہوگی اس کے ساتھ تو آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ میں 3 فٹ کا ہوں اور وہ 4 فٹ کی ہے اور مجھے پتہ ہے کہ رشتے کے لیے ہاں نہیں ہوگی کیونکہ میرا قد چھوٹا ہے۔