“اسکول میں پڑھتی تھی۔ پاپا کے پاس پیسے نہیں تھے اسکول کی فیس دینے کے تو مجھے نکال دیا گیا۔ پڑھائی چھوٹ گئی۔ تب نہیں جانتی تھی کہ آگے کیا کروں گی۔ لیکن ہمت نہیں ہاری۔ آج اپنے پیروں پر کھڑی ہوں اور اپنے والدین کا خواب بھی پورا کیا“
یہ الفاظ ایک ایسی لڑکی کے ہیں جس کے والد اچانک بیروزگار ہوگئے۔ گھر میں پیسوں کی اتنی تنگی ہوئی کہ بچوں کی پڑھائی بھی ختم ہوگئی۔ بجائے ہمت ہارنے کے صرف 18 سال کی اس لڑکی نے قریبی سپر اسٹور میں نوکری کرنی شروع کردی۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کے ماں باپ کو ہوائی جہاز میں بیٹھنے کا بہت شوق تھا جسے وہ غربت کی وجہ سے پورا نہیں کرسکتے تھے لیکن جب مسلسل محنت کے بعد ان کی بیٹی ائیر ہوسٹس بن گئی تب اس نے ماں باپ کا خواب پورا کیا۔
ماں باپ کو پہلی بار جہاز پر بٹھایا تو۔۔
“آخر کار وہ دن آگیا جب میں اپنے ماں باپ کو جہاز کے سفر پر لے گئی۔ وہ اتنے خوش تھے کہ میں بتا نہیں سکتی۔ یہ وہ خواب تھا جسے پورا کرنے کے لئے میں نے بہت محنت کی تھی“
بیٹی بھی نام روشن کرسکتی ہے
باہمت ائیر ہوسٹس کے والد کا کہنا ہے کہ اکثر بچے ہماری سوچ سے بڑھ کر حوصلہ مند ہوتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں سوچا کہ بیٹا نہیں ہے بلکہ اپنی بیٹی پر بھروسہ کیا اسی کا نتیجہ ہے کہ بیٹی نے بیٹے سے بڑھ کر ہمارے خواب پورے کیے۔