“میری بہو رشئین ہے۔ پہلی بار اس سے اور پوتی سے ملنے آئی ہوں۔ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ میری بہو گھر کا سارا کام بھی کرتی ہے۔ جھاڑو بھی لگاتی ہے اور برتن بھی دھوتی ہے۔ میرا خیال بھی رکھتی ہے“
یہ کہنا ایک ایسی ساس کا ہے جن کے بیٹے نے رشین عورت سے شادی کی۔ ان ماں بیٹے کا تعلق بنیادی طور پر بھارت کے گاؤں سے ہے لیکن کافی سالوں سے ملک سے باہر رہنے والا اس عورت کے بیٹے ہینیو نے غیر ملکی عورت سے شادی کی اور جب اس کے گھر بیٹی وکٹوریا کی پیدائش ہوئی تو وہ اپنی ماں کو بہو اور پوتی سے ملوانے کے لئے لے گیا۔
میں اپنی بہو کو کھانا پکا کر کھلاتی ہوں
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ساس اپنی پیاری سی ہوتی کے ساتھ بہت خوش ہیں اور اسے لوری سناتی ہیں جبکہ بہو کے لئے انھوں نے دیسی اور روایتی کھانے پکائے ہیں۔ ان کی بہو ماریہ کو اپنی انڈین ساس کے ہاتھ کے بنے چھولے بہت پسند آئے۔ ساس نے کہا میری بہو کھاتے ہوئے “ٹیسٹی، ویری ٹیسٹی“ کہتی رہی اور میرا دل خوش ہوگیا۔
غیر ملکی عورتیں بھی گھر کا خیال رکھتی ہیں
ساس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی عورتیں بری نہیں ہوتی ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ گھر کا خیال نہیں رکھ سکتیں، یہ غلط ہے۔ ان کی رشئین بہو نہ صرف اپنی بیٹی اور شوہر کا خیال رکھتی ہے بلکہ اپنی ساس کی بھی بہت عزت کرتی ہے۔ وہ اپنی بہو سے بہت مطمئن ہیں جنھوں نے ان کی اور ان کے بیٹے کی زندگی بدل دی ہے۔