ظفر عباس کو ملک بھر میں کون جانتا، کوئی مشکل ہو، کوئی پریشانی ہو، پھلوں کی قیمتوں کا اضافہ ہو، بجلی کے پول سے کرنٹ لگ کر مرنے کے واقعات ہوں، کووڈ راشن کی تقسیم ہو یا سحرو افطار ہر معاملے میں پیش پیش عوام کی خدمت کرنے کے لیے ظفر عباس تیار رہتے ہیں۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی پھلوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا بائیکاٹ اگر کچھ ہوا تو وہ بھی ظفر کی رہنمائی میں ہوا جس کے بعد پھلوں کی قیمتوں میں یکسر تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ حال ہی میں ظفر ایک پوڈکاسٹ میں آئے جہاں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سچ بتایا کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ ویڈیو ملاحظہ فرمائیں:
مجھے یہ مافیاز مار دیں گے، عبرت ناک موت ماریں گے کیونکہ ملکی تاریخ میں اتنے بڑے پیمانے پر بائیکاٹ نہیں ہوئے، میں نے اکیلے کیسز بھگتے لیکن کبھی عوام کو تکلیف پہنچنے نہ دی۔ عوام میرا ساتھ دیتی ہے۔ لوگ مجھے فیک بھی سمجھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ میں اتنی بڑی رقم لوگوں سے لے کر لوٹ رہا ہوں وہ بیوقوف ہیں کیونکہ مجھے جو کچھ ملتا ہے وہ سب کچھ میں لوگوں کی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے لگا دیتا ہوں۔ جس کا جو کام ہے وہ نہیں کر رہا، یہی وجہ ہے کہ ملک میں غربت اور بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے۔ جس قدر کوشش کرسکتا ہوں وہ میں کروں گا۔ پاکستان میں مافیاز کا گلا کبھی کسی نے نہیں گھونٹا مگر اب وقت بدلنے والا ہے۔
مجھے کراچی والے چھوٹے چھوٹے نارمل طبقے والے لوگ پیسہ دیتے ہیں کچھ بلڈرز مجھے سپورٹ کرتے ہیں لیکن بڑے دولت مند کبھی ساتھ نہیں دیتے وہ مجھے پسند ہی نہیں کرتے۔ مجھے تمغہ امتیاز نہیں ملا مجھے اس کا کوئی غم نہیں۔
مجھے 10 سال سے شوگر کا مرض ہے۔ میری 450 پر شوگر رہتی ہے۔ میرا کام اس قدر ٹینشن والا ہے جس کی وجہ سے میرا شوگر ہائی رہتا ہے۔ ڈاکٹر جو ڈائیلاسس سینٹر میں کام کر رہے ہیں جے ڈی سی ان کو ہم تنخواہ پر رکھتے ہیں۔ سندھ حکومت نے ہمیں جگہیں دیں تو ہم نے یہ ادارے کھولے ہیں۔