سفید کاٹن کی گھیر دار شلوار اور قمیض، سر پر سفید پگڑی جس کے دو پٹے بازوؤں کی دونوں جانب لٹکتے دکھائی دیتے ہیں۔ خوبرہ مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا نوجوان۔ جی ہاں ہم بات کررہے ہیں صوبہ بلوچستان میں مردوں کے پہناوے کی جو دیدہ زیبی کے علاوہ وقار رکھنے میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ صوبہ بلوچستان میں ہاتھ سے کڑھی ہوئی ٹوپیوں کے علاوہ ایک خاص قسم کی پگڑی پہنی جاتی ہے جسے "پاگ" کہتے ہیں۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو پاگ کے حوالے سے چند دلچسپ حقائق بتائیں گے۔
مجیب زہری بلوچ یوٹیوبر ہونے کے علاوہ ایم فل اسکالر ہیں. بلوچستان کی روایتی پاگ کے بارے میں انھوں نے اپنے وی لاگ میں بتایا کہ پاگ کے بلوچستان کی روایات کا حصہ بننے کی کئی وجوہات ہیں۔
گرمیوں میں حفاظت کرتی ہے
ان کا کہنا تھا کہ سائنسی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو گرم علاقوں میں سفر کرنے والوں کو گردن اور سر پر موٹا کپڑا لپیٹنے کی ہدایت دی جاتی ہے تاکہ وہ پسینہ جذب کر کے گرمی سے بچا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے بلوچ پگ پہنتے ہیں تاکہ چلچلاتی دھوپ سے محفوظ رہ سکیں۔
جنگ میں دشمن کے وار سے بچاتی تھی
نجیب زہری نے اسلامی حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ مختلف روایات کے مطابق گردن پر کپڑا لپیٹنا سنت ہے (اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے)۔ اس کے علاوہ چونکہ ماضی میں بلوچ قوم نے کافی جنگیں لڑی ہیں لہذا یہ بھاری بھرکم پاگ جنگوں میں بھی ان کی حفاظت کرتی تھی اور دشمن کے وار سے انھیں محفوظ رکھتی تھی۔
پاگ سفید رنگ کی کیوں ہوتی ہے؟
پاگ اگرچہ اب کئی رنگوں میں پائی جاتی ہے لیکن اس کا حقیقی رنگ سفید ہے جو کہ امن، جرات، وقار اور نفاست کی نشانی ہے۔ عام طور پر پاگ 2000 میں مل جاتی ہے۔ اپنے قارئین کی دلچسپی کے لئے ہم نیچے دی گئی ویڈیو میں پاگ باندھنے کا طریقہ بھی بتا رہے ہیں۔