قبرستان میں بھی سمندر کی لہریں آ گئیں۔۔ کچھ ایسے ان دیکھے لمحات، جو شاید آپ کو یقین دلائیں کہ اس دنیا میں کچھ نہیں رکھا، دیکھیے

image

اس دنیا میں ایسے کئی مناظر دیکھیے گئے ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ دنیا محض عارضی ہے اور انسان کو ایک ایسی جگہ جانے کی تیاری کرنے چاہیے جہاں دولت، گاڑی اور محل کام نہیں آئیں گے

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے اس وقت سب کو حیران کیا جب قبر کے کتبے تو نظر آ رہے تھے مگر ساتھ ہی پنج ڈوبی قبریں کسی کو دکھائی نہ دیں۔ عام طور پر قبرستان اور سمندر کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا ہے۔

اور ہونا بھی نہیں چاہیے کیونکہ پانی قبر اور اس میں موجود مردے کو نقصان پہنچا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب کبھی برسات ہوتی ہے تو اپنے پیارے کہ قبر کو بھی دیکھ لی کریں۔

بہر حال اس ویڈیو نے اس وقت صارفین کے اوسان خطا کیے، جب لہریں قبروں کے کتبوں سے ٹکرا رہی تھیں، یوں معلوم کو رہا تھا گویا سمندر ہی قبرستان میں آ گیا ہو۔

کل تک جو اپنے سفید کلف ولے کپڑوں پر دھبہ تک نہیں آنے دیتا تھا آج اپنے اوپر آنے والے پانی کو ہٹا تک نہیں پا رہا ہے، جو اپنے گھر کو ہر لمحہ خراب ہونے سے بچاتا، آج اپنی آخری آرامگاہ کو تباہی سے بھی نہیں بچا پا رہا تھا۔ یہ سوچنے پر بھی مجبور کر دیا کہ انسان کتنا بےبس اور مجبور ہے جو کچھ کر ہی نہیں سکتا ہے۔

دوسری جانب ایک ایسی ہی تصویر نے سب کی توجہ حاصل کی جس میں ایک بوڑھا اسپتال کی جانب جا رہا ہے اور ایک نومولود اسپتال سے آ رہا ہے، جو ی ایک طرف یک زندگی ختم ہونے جا رہی ہے تو دوسری جانب ایک نئی زندگی اپنا سفر شروع کر رہی ہے۔

یعنی انسان کی عمر کیسے ختم ہونے جا رہی ہوتی ہے، یقین نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ کل تک جو اکڑ کر چلتا تھا وہ آج وہیل چئیر پر موجود ہے، آج اس کی گردن تک سکڑ گئی ہے۔

اسی طرح ایک ایمبولینس اور ایک نوجوان طبقے کہ تصویر نے بھی سب کو افسردہ کیا جس میں ایک طرف زندگی آخرت کے سفر پر جا رہی ہے تو دوسری طرف ایک زندگی دنیا کی رنگینیوں میں کھوئی ہوئی ہے، انسان کیسے دیکھ کر بھی اندیکھا کر دیتا ہے، اس کے اندازہ انہی چند واقعات سے لگایا جا سکتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US