مشہور شخصیات سے متعلق ایسی کئی معلومات ہیں جو کہ سب کو حیران کر دیتی ہیں، اسی طرح ان کا آخری وقت اور آخری الفاظ بھی صارفین کو افسردہ کر جاتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
ارشد شریف:
پاکستان کی معروف شخصیات میں ارشد شریف بھی سب کی توجہ حاصل کر رہے تھے، اگرچہ وہ ایک صحافی تھے، تاہم بڑے بڑے لیڈرز سے بڑھ کر پاکستانیوں کی توجہ سمیٹ لی تھی۔
کینیا میں ان کی اچانک شہادت نے جہاں دنیا بھر کو حیران کیا وہیں پاکستانیوں کو بھی رُلا دیا تھا، یہی وجہ تھی کہ ان کی شہادت کے بعد ان کے جنازے میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔
اپنے آخری ٹوئیٹ میں بھی شہید اسی ملک کے حوالے سے بات کر رہے تھے، 23 اکتوبر 2022 کو ان کا آخری ٹوئیٹ ملک کی سیاسی صورتحال کے اوپر تھا، جس میں انہوں نے سیاسی رہنما اعجاز الحق کے ایک بیان پر ٹوئیٹ کیا تھا۔
ڈاکٹر اسرار احمد:
پاکستان میں علماء میں ڈاکٹر اسرار احمد کا شمار ان چند علماء میں ہوتا تھا جو کہ ہر دوسرے مسلمان کے لبوں پر ہوتے تھے، اپنے جذباتی بیانات، روح کو تڑپا دینے والے الفاظ اور حقیقت پسندی پر مبنی اس دنیا کے بارے میں خطبات سب کی توجہ خوب سمیٹتے تھے۔
آخری وقت میں بھی ان کے فرزند ڈاکٹرعامر عزیز نے بتایا کہ اُس دن جب میں ڈاکٹر صاحب سے مل رہا تھا، تو مجھے لگ رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے بعد بس ایک سے دو دن ہی باقی ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ والد نے عامر عزیز سے کچھ ایسا کہا ہو، جس پر انہوں نے اندازہ لگا لیا ہو۔ اگرچہ ہم نے والد سے اسپتال چلنے کی بھی درخواست کی، جس پر والد نے منع کر دیا۔
دوسری جانب والد سے وداع لینے کے بعد ان کے پاس خادم ٹھہرا ہوا تھا، رات کے وقت عمومات ڈاکٹر صاحب نیند میں خراٹے لیتے تھے، تاہم اُس دن ڈاکٹر اسرار احمد نے خراٹے نہیں لیے، تو رات کے 3 بجے خادم کو تشویش ہوئی جس پر اس نے فورا بیٹۓ کو بلایا، اور علم ہوا کہ والد اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
اوم پوری:
مشہور اداکار اوم پوری کو پاکستانی بے حد پسند کرتے تھے، اُس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اوم پوری خود بھی پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔
ان کی اچانک موت نےجہاں سب کو حیران کیا وہیں افسردہ بھی کر دیا تھا۔ تاہم اپنے آخری انٹرویو میں انہوں نے کچھ ایسا کہا جس سے سب کو یہی اندازہ ہوا کہ شاید انہیں اپنی موت کا علم ہو چکا تھا۔ کیونکہ آخری انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بطور اداکار میری صلاحیتیں اُس وقت سامنے آئیں گی، جب میرے مرنے کے بعد نئی نسل میری فلمیں دیکھے گی۔
جنید جمشید:
مشہور نعت خواں اور میزبان جنید جمشید کو لاکھوں لوگوں کے دلوں میں گھر کرتے جا رہے تھے اچانک ہوائی جہاز حادثے میں شہید ہو گئے تھے۔
تاہم رحلت سے پہلے ائیر پورٹ پر لی گئی ان کی آخری تصویر سب کو افسردہ کر رہی ہے، کسے علم تھا کہ جنید جمشید اور ان کے دوست احباب اپنی زندگی کی آخری تصویر بنوا رہے تھے۔
تبلیغ کی غرض سے جانے والے جنید اللہ کی راہ میں رحلت کر گئے تھے، ان کی آخری تصاویر پاکستانیوں کو شدید غم میں مبتلا کر رہی تھی۔
بے نظیر بھٹو:
سابقہ وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ شہید بے نظیر بھٹو نے جہاں کشمیر سے کراچی تک عوام کی توجہ خوب سمیٹ لی تھی وہیں ان کی مقبولیت سے ان کے ناقدین بھی شدید خوفزدہ تھے۔
راولپنڈی میں ہونے والے حملے وہ شہید ہو گئی تھیں، تاہم آج بھی وہ عوام کے دلوں میں زندہ ہیں، ان کے آخری الفاظ بھی آج تک سب کو یاد آتے ہیں۔ آخری وقت میں بھی بے نظیر بھٹو عوام کے درمیان موجود تھیں اور جئے بھٹو کا نعرہ لگا رہی تھیں۔