“میری سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کاغذ رکھ کر کیوں نماز پڑھ رہا ہے۔ میں حیران تھا۔ وہ لڑکا کاغذ پر کچھ دیر دیکھتا پھر نماز پڑھنے لگتا۔ میں نے سوچا اس سے پوچھوں کہ کیا معاملہ ہے اور جب اس کی بات سنی تو میں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا“
یہ کہنا ہے نماز کے لئے مسجد آئے سعودی شہری عبدالعزیز المغربی کا جو یورپ کی ایک مسجد میں موجود تھے کہ ایک نو عمر انگریز لڑکے کے نماز پڑھنے کے طریقے کو دیکھ کر تجحسس میں مبتلا ہوگئے۔
نماز ختم ہونے کے بعد عبدالعزیز نے جب لڑکے سے اس بارے میں دریافت کیا تو لڑکے نے بتایا کہ “میں نے حال ہی میں اسلام قبول کیا ہےاس لئے نماز کا طریقہ اور دعائیں وغیرہ اچھی طرح یاد نہیں ہیں۔ میں کاغذ پر التحیات اور نماز کا طریقہ اور تمام دعائیں رومن میں لکھ کر پریکٹس کرتا ہوں تاکہ جلد سے جلد نماز سیکھ سکوں “
لڑکے کا یہ جواب ان تمام لوگوں کے لئے مثال ہے جو جدی پشتی مسلمان ہیں، قرآن مجید پڑھ چکے ہیں اور تمام دعائیں یاد ہونے کے باوجود نماز پڑھنے میں سستی اور کوتاہی برتتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مسلمان قرآن جیسی الہامی کتاب کے ہوتے ہوئے بھی دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا مقابلہ نہیں کرپاتے۔ کاش ہم میں بھی اس لڑکے جیسا جذبہ ایمانی پیدا ہوجائے۔ آمین۔