جنید جمشید کو گزرے 7 برس ہونے والے ہیں، ان کی یاد اور آواز آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ موسیقی سے عشقِ حقیقی تک کا سفر یادگار رہا کہیں اپنے گانوں سے دلوں کے تار چھیڑے تو کہیں اپنی نعت سے لوگوں کا دل جھنجھوڑا اور خود اسلام کی طرف آئے تو لوگوں میں تبلیغ بھی شروع کردی۔
جنید جمشید کا ایک پرانا ویڈیو کلپ ایک مرتبہ پھر سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں ان کی پہلی اہلیہ عائشہ جنید اور بچوں کے ساتھ ساتھ والدین بھی دکھائے گئے ہیں اور سب اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں۔
جنید جمشید کی اہلیہ عائشہ جنید کا کہنا تھا کہ جنید سے میں نے ان کے مشہور ہونے یا اچھا گلوکار ہونے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی یہ پہلے بھی اچھے اور تبدیلیوں کے بعد بھی۔ ہمارے بچے اسکول بھی جاتے ہیں اور مدرسے میں بھی جاتے ہیں۔۔ دونوں طرح کی تعلیم بچوں کو دلوا رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی مجھے زبردستی نہیں کہا کہ پردہ کرو لیکن اکثر حجاب کرنے کی تاکید کر دیتے ہیں۔
جنید جمشید نے اپنے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اکثر قبرستان میں جا کر بیٹھتا ہوں اور قبروں سے باتیں کرتا ہوں تاکہ مجھے یہ احساس ہو کہ مجھے بھی اسی جگہ جانا ہے۔ میں نے تبلیغ کا کام فی سبیل اللہ شروع کیا اور مجھے خوشی ہے کہ لوگوں نے میری بات کو دل سے قبول کیا۔ جس نے اللہ کو پہچان لیا اس نے ضرور میری بات کو ماننے کی کوشش کی ہوگی لیکن یہ ہدایت سب کو اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔