اکثر اس دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جو کہ سب کی توجہ اپنے اچھے اخلاق اور بہترین کردار کی بدولت حاصل کر لیتے ہیں، لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جو کہ اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے بھی حاصل کر لیتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
پاکستان مخالف بیانیہ رکھنے والے اور اسلام سے متعلق متنازع بیانات دینے والے مشہور کالم نگار طارق فتح اچانک علالت کے باعث انتقال کر گئے تھے، لیکن ان کی موت سے متعلق بھی اب کچھ ایسی باتیں ہو رہی ہیں جو کہ سب کو حیران کر رہی ہیں۔
کہتے ہیں کہ جب کوئی مر جائے تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہو جاتا ہے، مگر کئی سوشل میڈیا صارفین متنازع شخصیت کو مختلف طور پر یاد کر رہے ہیں۔
خاص بات کی جائے بھارتیوں کی تو پاکستان کے شہر کراچی میں 1949 میں پیدا ہونے والے طارق فتح انہیں بے حد عزیز تھے، طارق فتح کا ہندوتوا انتہا پسندوں کو بڑھاوا دینا، مغل دور کو منفی طور پر پیش کرنا اور پاکستان پر تنقید کرنا بے حد پسند آتا تھا۔
تاہم اس سب میں یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ وہ کینیڈا میں رہائش اختیار کیے ہوئے تھے، جبکہ پاکستان نہ آںے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کی جانب سے دیے گئے متنازع اور پاکستان مخالف بیانات ان کے لیے پاکستان میں مشکلات ضرور پیدا کر سکتے تھے۔
واضح رہے بھارتی میڈیا نے طارق فتح کے ذریعے پاکستان کے خلاف خوب پروپیگنڈہ کیا تھا، انہیں کچھ ایسے استعمال کیا کہ وہ خود بھی گندا نہیں ہوا اور پاکستان کے خلاف بھی اپنی عوام میں نفرت پیدا کر دی۔
سوشل میڈیا اکاؤنٹ حلال نیشن کی جانب سے ایک پوسٹ اپلوڈ کی گئی تھی جس میں طارق فتح کی تصویر موجود تھی، اگرچہ وہ مسکرا رہے تھے، مگر ان کی حالت کچھ اس طرح ہو گئی تھی کہ انہیں پہچاننا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ اس پوسٹ میں لکھا گیا کہ طارق فتح کہتے تھے کہ اسلام ایک کینسر ہے، آج خود کینسر کے باعث انتقال کر گئے۔
اگرچہ طارق فتح کے آخری الفاظ کے بارے میں تو اب تک کسی کو نہیں پتہ چل سکا ہے، تاہم موت سے چند دن پہلے تک وہ اپنے دوست احباب اور چاہنے والوں سے ملتے رہے تھے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کس طرح متنازع شخص کی موت پر ردعمل دیا جا رہا ہے، خود دیکھیے۔