پرانی یادیں سب کو خوب بھاجاتی ہیں، جبکہ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو کہ پرانے زمانے کے لوگوں کو آج بھی خوب یاد آتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
پاکستان میں ہونے والی شادیوں میں ایک وقت تھا جب محبت، خلوص، بھائی چارگی اور آپس میں ملنساری ہوا کرتی تھی، جہاں کوئی ناراضگی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کسی قسم کے شکوے شکایات۔
صرف یہی سب نہیں بلکہ خرچہ بھی اپنی حیثٰیت سے ہوتا تھا، نہ زیادہ دکھاوا ہوتا تھا اور نہ فضول خرچ۔ سادگی سے ہونے والی شادیوں میں جہاں ہر ایک خوشی خوشی بیٹی کی بدائی کرا سکتا تھا، وہیں سب خوب خوش بھی ہوتے تھے۔
ایک ایسی ہی تصویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہے، جس میں رخصتی کا منظردکھایا گیا ہے، یہ منظر لاہور کا ہے، جہاں رخصتی کا منظر دکھایا گیا ہے۔
1974 کی یہ تصویر محض تصویر نہیں ہے، بلکہ یادیں ہیں جو کہ سب کو ماضی کی یادوں میں لے جاتی ہیں۔ سرخ دوپٹے کا صحرا اوڑھے دلہے میاں گھوڑے پر بیٹھے ہیں، جبکہ ساتھ ہی بارات بھی موجود ہے۔
لیکن ان شادیوں کی منفرد بات یہ تھی کہ اس دور میں گاڑیاں اُس طرح عام نہیں تھیں، یہی وجہ تھی کہ جہیز کا سامان کا دلہن میکے سے جو چیزیں لے کر آتی تھی، وہ یوں ہی سڑک پر سے لے جائی جاتی تھی، یعنی ہاتھوں میں اٹھا اٹھا کر۔
اس تصویر میں موجود پیٹی بھی اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جبکہ ساز و سامان کے لیے بھی خاص طور پر بندے بلائے جاتے تھے، جو کہ بیٹی کے سسرال بارات کے ساتھ سامان پہنچاتے تھے۔
جبکہ یہ تصویر بھی کافی پرانی ہے، جس میں دلہے میاں اور دلہن موجود ہیں، سیاہ اور سفید رنگ کی اس تصویر میں جہاں ماضی کی ایک جھلک دکھائی دے رہی ہے، وہیں یہ بات بھی منفرد ہے کہ پہلے کیسے زمین پر بیٹھنے کو کم تر نہیں سمجھا جاتا تھا۔
یہ لمحہ بھی کافی توجہ طلب ہے، جس میں دلہن کی سہیلیاں دلے میاں سے پیسے طلب کر رہی ہیں، یہ لمحہ عام طور پر اب کافی تبدیل ہو گیا ہے، لیکن دودھ پلائی کی رسم اب تک باقی ہے۔
اور پھر ایک وقت ایسا بھی تھا جب گھروں میں ہی شادیاں ہوا کرتی تھیں، گھر کے لاؤنج کو ہی اسٹیج بنایا جاتا تھا جہاں دلہا اور دلہن بیٹھا کرتے تھے، سادہ مگر چمکدار کپڑے خواتین کی شخصیت کو جہاں مزید نکھارتے تھے وہیں دلہن کے سر پر موجود صحرا بھی اسے سب میں خاص بناتا تھا۔