اسکول انتظامیہ نے ھمیشہ کے لئے دوسرے بچے کی فیس آدھی لینے کا جھانسہ دے کر دو سو سے زائد بچوں کا ایڈمیشن کر لیا تھا اور پھر صرف آٹھ ماہ بعد ھی دوسرے بچے کا ڈسکاؤنٹ ختم کر کے پوری فیس کا مطالبہ شروع کر دیا جس پر والدین نے ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز رجسٹریشن اینڈ انسپکشن سندھ کو شکایت کی جس پر یہ خط جاری کیا گیا جس میں ڈائریکٹوریٹ نے اسکول کو سات دن کے اندر اندر جواب جمع کروانے کا کہا ھے۔
والدین نے الزام لگایا کہ ھمیں سوئمنگ پول، ائیرکنڈیشنز اور پچیس اور پچاس فیصد رعایت اور دیگر سہولیات کا بتا کر داخلہ کروایا گیا اور 22000 روپے ماھانہ فیس وصول کی جا رھی ھے۔
اب اسکول کی صورتحال یہ ھے کہ پول اور ائیرکنڈیشنز بند پڑے ہیں اور پنکھے تک پورے نہیں لگے ھوئے ہین اور بچوں سے کہا جا رھا ھے کہ ٹائلٹ سوپ بھی اپنے اپنے گھر سے لائیں جبکہ ٹیچنگ میٹیریل بھی نہیں دیا جا رھا۔
والدین نے پاکستان سیٹزن پورٹل پر بھی شکایات کی ہیں اور اسکول کی پیرینٹس ٹیچرز ایسوسی ایشن کے قیام کا اور اسکول کے سامنے مظاہرے کا بھی اعلان کر دیا ھے اسٹوڈینس پیرینٹس ایسوسی ایشن کراچی کے صدر ندیم مرزا نے وزیر تعلم سندھ سے اپیل کی ھے کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لے کر والدین کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور ان اسکول سسٹمز کے سندھ میں فرنچائز دینے پر پابندی لگائی جائے
1- جن کا باقاعدہ ریجنل آفس کراچی میں موجود نہیں ھے
2- جن کے فرنچائز پارٹنرز اسکول صوبائی قوانین کی پابندی نہیں کر رھے
3- جن اسکولوں کا فرنچائز پارٹنرز کی نگرانی اور شکایات کے ازالے کا کوئی باقاعدہ اور مضبوط نظام موجود نہیں ھے