آج کل شہر کراچی میں جان کی کوئی قیمت نہیں۔ اس شہر میں کئی ڈاکو سرگرم ہوچکے ہیں جنہوں نے شہریوں بالخصوص نوجوانوں کا جینا محال کردیا ہے۔ کوئی گلی کے کونے پر لُٹ رہا ہے تو کوئی بیچ سڑک پر نقدی سامان سے محروم ہو رہا ہے۔ شہریوں کی حفاظت کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جا رہے۔
ذرا سی مزاہمت پر وہ جان کی پرواہ کئے بغیر شہریوں پر فائرنگ کر کے فرار ہوجاتے ہیں جنہیں بدقسمتی سے ہماری پولیس ڈھونڈنے میں ناکام ہوتی ہے۔
ایک ایسا ہی افسوسناک واقعہ کراچی میں شارع فیصل پر نرسری کے قریب پیش آیا جہاں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے والدین کا سہارا فہد نامی نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
فائرنگ کا واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر پیش آیا، مقتول فیڈرل بی ایریا کا رہائشی تھا۔ فائرنگ میں نتیجے میں جاں بحق ہونے والے فہد سے متعلق کئی پوسٹ سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے فہد کی تصاویر اپ لوڈ کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ محمد فہد کو دورانِ ڈکیتی موبائل چھین کر ڈکیتوں نے شہید کردیا۔
وہ بہت ہی اچھے کردار کا محنتی لڑکا تھا یہ، تقریباً پورا فیڈرل بی ایریا بلاک، 14،15، اور بلاک 9 اس لڑکے کو جانتا ہے ۔ ڈاکٹر سعود کے کلینک پر کمپاؤنڈنگ کرتا اور گھر چلانے میں مدد کرتا تھا۔
290 روپے لیٹر پیٹرول والے ملک میں پھر زندہ رہا جا سکتا ہے لیکن اس لائن آرڈر کی صورتحال میں نہیں۔ اس سے قبل بھی کئی نوجوان ڈاکوؤں کی بندوق کا نشانہ بن کر اپنے اہلخانہ کو ہمیشہ کے لیے جا چکے ہیں۔
پولیس جائے واردات کے اطراف کی سی سی ٹی وی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔