حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک شخص کی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جو پولیس کی وردی میں ملبوس موٹر سائیکل پر بیٹھا ٹریفک میں تیزی سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے جس
کی نمبر پلیٹ بھی موجود نہیں ہوتی۔
مائیک پکڑے شخص نے موٹر سائیکل کو پکڑ کر وردی میں ملبوس موٹرسائیکل سوار کو روکنے کی کوشش کی جس پراس نے مائیک پکڑے شخص کو گالیاں دیں۔ مذکورہ شخص کانسٹیبل زوہیب ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور حال ہی میں اس کی ملاقات آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انورسے ہوئی ہے۔
واضح رہے آئی پنجاب کا کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے ویڈیو میں نظر آنے والا کانسٹیبل شاہد کے بارے میں انکشاف کیا تھا کہ وہ نفسیاتی بیماری کا شکار ہے، وہ ڈیوٹی سے بھی غیر حاضر تھا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ کانسٹیبل کی دماغی حالت بہتر ہونے پر اس کا علاج جاری ہے۔
اب آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے نفسیاتی امراض کی علاج گاہ مینٹل ہیلتھ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے کانسٹیبل شاہد زوہیب سے ملاقات کی۔
مینٹل ہیلتھ سینٹرکے دورے کے دوران آئی جی پنجاب نے زیرعلاج کانسٹیبل شاہد زوہیب سے ملاقات کی جس دوران انہوں نے کانسٹیبل شاہد زوہیب کو گلے لگایا اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ کسی کی بیماری کامذاق بنانا، الزامات لگانا، مریض اوراہل خانہ سے زیادتی کے مترادف ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زوہیب کا علاج اچھے ماہرین کی نگرانی میں کیا جا رہا ہے۔