تشدد کا شکار رضوانہ زخموں سے صحتیاب، اب ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں: ہسپتال انتظامیہ

image

لاہور کے جنرل ہسپتال میں پچھلے چار مہینوں سے زیر علاج گھریلو تشدد کا شکار رضوانہ کے تمام زخم مندمل ہو گئے ہیں۔

جنرل ہسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح رضوانہ کو ڈسچارج کر دیا جائے گا۔

’تاہم اس وقت وہ ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں جس کا علاج بعد میں بھی جاری رہے گا۔ تاہم اب انہیں ہسپتال میں مزید داخل رکھنے کی ضرورت نہیں۔‘

خیال رہے کہ اس سال جولائی کے مہینے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سول جج عاصم حفیظ کے گھر کام کرنے والی 14 سالہ رضوانہ کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

متاثرہ بچی کی والدہ شمیم بی بی کا الزام تھا کہ رضوانہ کو جج اور ان کی اہلیہ نے  تشدد کا نشانہ بنایا۔

 ان کی والدہ کے بقول گذشتہ کئی مہینوں سے وہ اسلام آباد میں عاصم حفیظ نامی جج کے گھر ملازمہ کے طور پر گئی تھیں تاہم اس کے بعد ان سے بچی کی ملاقات نہیں کروائی گئی اور 23 جولائی اتوار کے روز اسلام آباد بس سٹینڈ پر بلا کر بچی کو زخمی حالت میں ان کے حوالے کیا گیا۔

رضوانہ کو لاہور کے جنرل ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ اور ڈاکٹروں کے ایک 13 رکنی بورڈ کی نگرانی میں ان کا علاج شروع کیا گیا۔

بورڈ کے سربراہ فرید ظفر کے مطابق جب بچی کو ہسپتال لایا گیا تو وہ شدید ٹراما کی حالت میں تھی اور ان کے دماغ میں زخم آئے تھے اس کے علاوہ ان کے بازو کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔

جنرل ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق رضوانہ کے علاج کے تمام اخراجات پنجاب حکومت نے برداشت کیے۔

ترجمان کے مطابق رضوانہ کے خاندان کے لیے ہسپتال کے اندر رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات بھی پنجاب حکومت نے برداشت کیے۔

’ان کو ایک پرائیویٹ کمرہ دیا گیا تھا اور ان کی ہر طرح کی ضرورت کا خیال رکھا گیا ہے۔‘

’ان کی تمام زخم مندمل ہو چکے ہیں اور میڈیکل بورڈ کی سفارش پر ہی انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کیا جا رہا ہے۔‘

دو ہفتے قبل ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے رضوانہ کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی جس میں ان کو مسکراتے ہوئے اور خود اپنے پاؤں پر چلتے دیکھایا گیا تھا۔

رضوانہ اور اس کے خاندان کا تعلق سرگودھا سے ہے اور ان کے والدین نے انہیں گھریلو کام کے لیے اسلام آباد میں رکھوایا تھا۔


News Source   News Source Text

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US