اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس فیصلے پر نواز شریف کی اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے نیب کے پراسیکیوٹر کی ریفرنس کو ازسرِ نو سماعت کے لیے احتساب عدالت بھیجنے کی استدعا مسترد کر دی۔
قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کر دیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے احتساب عدالت کا 2018 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔علاوہ ازیں نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کی اپیل واپس لے لی۔یاد رہے کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں نواز شریف کو 10 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔رواں سال اکتوبر کے آخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیلیں بحال کر دی تھیں جس کے بعد ان دونوں مقدمات کو میرٹ پر سن کر مسلم لیگ ن کے قائد کی بریت یا سزا سے متعلق حتمی فیصلہ سنایا جانا تھا۔