تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں اضافے کی بجٹ تجویز کی منظوری موخر کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے بجٹ کیلئے ٹیکس تجاویز سے متعلق گزشتہ اجلاس میں وزیراعظم نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کی شرط کی توثیق نہیں کی بلکہ وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف کے پاس واپس جانے اور ان سے تجویز واپس لینے کی درخواست کرنے کی ہدایت کر دی۔
سریے کی فی ٹن قیمت میں سالانہ بنیادوں پر بڑی کمی ریکارڈ
واضح رہے پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ بینک ڈیپازٹرز، کنڑیکٹرز اور درآمدی ٹیکسوں کے بعد چوتھا سب سے ٹیکس دینے والا طبقہ ہے۔ مہنگائی کے مسلسل ڈبل ڈیجیٹ میں ہونے کے باعث ان کی قوت خرید تیزی سے سکڑتی جا رہی ہے۔
اس کے باوجود آئی ایم ایف تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار کاروباری افراد سے آئندہ مالی سال میں مزید 600 ارب روپے سالانہ وصول کرنا چاہتا ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران تنخواہ دار افراد نے 216 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔ حکومت کا آئندہ مالی سال کیلیے ٹیکس وصولی کا ہدف 12.9 ٹریلین روپے ہے جو رواں مالی سال کے ہدف سے 40 فیصد یا 3.6 ٹریلین روپے زیادہ ہے۔
ایف بی آر نے مئی2024میں مقررہ ہدف سے زائد محصولات جمع کرلئے
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح کو معقول بنانے کیلیے تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار کی تفریق کو ختم کرنے اور سلیب کی تعداد کو چار سے کم کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس نے زیادہ شرح والے سلیبس کے لیے آمدنی کی حد کم کرنے کو بھی کہا ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے پاکستان کا ترقیاتی بجٹ شدید متاثر
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پنشنرز پر ٹیکس لگانے کا بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ سرکاری سطح پر پنشن پر ٹیکس لگانے کے حق میں آوازیں اٹھ رہی ہیں لیکن پنشن کی حد پر ابھی تک اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پنشنرز پر ٹیکس لگانے کے حق میں نہیں تھے۔