وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پر 9 مئی سانحے کے فوری بعد پابندی لگنی چاہیے تھی، پی ٹی آئی پر پابندی کا اعلان اتحادیوں سے مشاورت کے بعد کیا جانا چاہیے تھا۔
ہم نیوزکے پروگرام” فیصلہ آپ کاعاصمہ شیرازی کیساتھ”میں گفتگوکرتےہوئےوزیر دفاع نے کہا کہ فچ ایک کریڈٹ ریٹنگ ادارہ ہے، جو کریڈٹ ریٹنگ کرتے ہوئے سیاسی حالات بھی دیکھتا ہیں ، اس وقت سارے حالات دیکھیں تو پریشان کن ہیں ، حالات بہتر نہ ہوں تو کوئی پلینگ نہیں کر سکتے۔
ڈرنے جھکنے اور بکنے والی نہیں،مریم نواز،شہباز شریف اور نواز شریف کو بے نقاب کروں گی،صنم جاوید
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمارے ساتھ ہے مگر حالات کو دیکھنے میں اختلافات ہو سکتے ہیں، پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالےسے پیپلز پارٹی سے مشاورت نہیں کی گئی ۔ تحریک انصاف پر پر پابندی کے حوالے سے پیپلز پارٹی سے مشاورت کرنی چاہیے تھی ۔ پی ٹی آئی پر پابندی کا اعلان اتحادیوں سے مشاورت کے بعد کیا جانا چاہیے تھا، میجورٹی ہو بھی تو اتحادیوں سے مشاورت ضرور ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی ان کی ذات پربات آئی انہوں نے ملک کو اٹیک کیا ہے ۔ میرا خیال ہے 9مئی واقعہ پر ہی پی ٹی آئی پر پابندی لگنی چاہیےتھی، پی ٹی آئی کی ملکی مفاد کیخلاف سرگرمیاں پچھلے ڈیڑھ سال سے جاری ہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی پر فیصلہ سینئر لوگوں سے مشاورت کے بعد ہو گا ، کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ نواز شریف خاموش بیٹھے ہیں ، قائد ن لیگ بھر پور ایکٹو ہیں ، تمام بڑے فیصلےاور اسٹریٹجی نواز شریف سے منظور ہوتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی صورتحال نظر نہیں آرہی ، شہباز شریف نے مختلف اوقات میں بات چیت کی آفر کی ، لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے وزیراعظم کی آفر کا کوئی جواب نہیں آیا ،بلکہ وزیراعظم کی بات چیت کی آفر پر پی ٹی آئی نے شور شرابہ کیا۔
میرا نہیں خیال کہ مذاکرات ہوں گے ، ملک میں اس وقت ڈیڈ لاک کی صورتحال ہے ، آئندہ 10 دن میں تمام مسائل پر کلیئریٹی آجائے گی ، گومگوں کی کیفیت ضرور ہے مگرایسی صورتحال نہیں کہ سسٹم لپیٹا جائے۔
ڈالر کی قیمت میں معمولی اضافہ
انہوں نے کہا کہ سرگوشیاں ہو رہی ہیں اکتوبر آنے دیں پھر انتخابات کی درخواست بھی لگا دیں گے، درخواست پر انتخابات کو کالعدم قراردینے کیلئے غلام گردشوں میں سرگوشیاں ہو رہی ہیں، لیکن ہم حکومت کو بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ٹرمپ اور بانی پی ٹی آئی میں بہت مماثلت ہے ، سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور اور سابق امریکی صدر ٹرمپ جڑواں لگتے ہیں کیونکہ عمران خان پر حملہ ہوا، مقدمات میں جیل جانا پڑا، ٹرمپ پر حملہ ہوا اور وہ بھی مقدمات میں جیل گئے۔
وفاقی وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے بانی عمران خان کی پاپولرٹی سے کوئی انکار نہیں۔