اسلام آباد: چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے ٹیکس اور گندم کی فی من قیمت 2850 روپے مقرر کرنے پر اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کر دیا۔
کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ پنجاب میں کسانوں کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔ اور یہ معاشی قتل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کسانوں کو گندم 2850 روپے من فروخت کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ جبکہ کسان کے اخراجات اس سے کہیں زائد ہیں۔ حکومت کسانوں سے گندم خرید رہی ہے اور نہ ہی انہیں بیچنے دے رہی ہے۔
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ یہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے کیونکہ ایسی صورتحال میں آئندہ برس گندم کی کاشت 50 سے 60 فیصد کم ہو گی جبکہ حکومت کے پاس گندم درآمد کرنے کے لیے زرمبادلہ ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی فرمائش پوری کرتے ہوئے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ کسان کو مزید برباد کر دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا اتحادیوں سے رابطے کا فیصلہ
چیئرمین کسان اتحاد نے کہا کہ گندم کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ اپنے حقوق کے لیے لاہور آئے تو مریم بی بی نے ہم پر تشدد کروایا۔ پاکستان کے پاس اس وقت کوئی سیکٹر نہیں جو بہتری کی جانب راغب ہو۔
انہوں نے کہا کہ صرف زراعت ہی معاشی گروتھ بڑھا سکتی ہے۔ اس وقت ہماری زرعی معاشی پیداوار 6.25 ہے۔ حکومت کو چاہیے ایسے اقدام کرے کہ اس میں مزید اضافہ ہو نہ کہ ایسے فیصلے کرے کہ اس میں بھی کمی ہو جائے۔
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ ہماری کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔ کسان پر حکومت کی کوئی انویسٹمنٹ نہیں لیکن اس کے باوجود ہم کسان 20 سے 25 ہزار ارب روپے کی پیداوار دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے اوپر اخراجات کیوں نہیں کرتے؟ ٹیکس لگانا یاد ہے مگر کسان کو کوئی ریلیف نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے زرعی ٹیکس کے خاتمے کا اعلان نہ کیا۔ تو ملک بھر کے کسان اسلام آباد میں تاریخی دھرنا دیں گے۔ اور یہ دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔