کراچی کے ساتوں اضلاع کے الگ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری بنانے کا معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں زبردست بحث و مباحثے کا سبب بنا اور فیصلہ کیا گیا کہ قانون کے مطابق کراچی کے تمام اضلاع کو اپنے چیمبرز بنانے کی اجازت دی جائے تاہم اس سے قبل کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا موقف بھی سن لیا جائے۔
وزارت تجارت کے ڈائریکٹر جنرل بلال پاشا نے اس حوالے سے مفصل بریفنگ دی اور بتایا کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود کراچی چیمبر نے اپنے میمورنڈم آف آرٹیکل میں ترمیم نہیں کی جو نئے قانون کی ضرورت تھی۔ تاہم کراچی کے ضلعی تاجر و انڈسٹری نمائندوں نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق اضلاع کی بنیاد پر چیمبرز بنانے کی درخواستیں چار سال سے زیر التواء ہیں جبکہ موجودہ کراچی چیمبر شہر کی کاروباری برادری کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے بلکہ محض ایک محدود گروپ کے لیے کام کرتا ہے اور وہی اسی پر قابض ہے۔
تاجروں اور انڈسٹری کے افراد کا موقف تھا کہ جب شہر میں چار ویمن چیمبرز ہو سکتے ہیں توہمارے ضلعی چیمبر کیوں نہیں بن سکتے؟۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس رکن اسمبلی جاوید حنیف خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سینٹرل، ایسٹ، کورنگی اور ملیر ڈسٹرکٹس کی الگ چیمبرز بنانے کی درخواستیں آ چکی ہیں۔ تاجر نمائندوں نے کراچی چیمبر کے خلاف شکایات کی بھرمار کرتے ہوئے بتایا کہ صرف 30 لوگ کراچی کے کئی لاکھ تاجروں اور صنعتکاروں کی نمائندگی کرنے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں۔
کراچی میں انڈسٹری چلانا ناممکن ہو رہا ہے اور ہمارے مسائل کے حل کے لیے کوئی فورم موجود نہیں۔ کمیٹی چیئرمین اور ارکان کی رائے تھی کہ ضلعی چیمبرز کو اجازت ملنی چاہیے اور کراچی چیمبر کو بلا کر سنا جائے اور اگر وہ نہ آئے تو یکطرفہ فیصلہ کرلیا جائے گا۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ کراچی ویسٹ اور کیماڑی کو بھی کہا جائے کہ وہ بھی اپنے چیمبرز کے لیے درخواستیں دیں۔